انسانی جسم کے تہہ در تہہ حصوں کے ہاتھ سے بنائے ہوئے بہت سے پیچیدہ خاکے ہیں

انسانی جسم کے تہہ در تہہ حصوں کے ہاتھ سے بنائے ہوئے بہت سے پیچیدہ خاکے ہیں

اس کتاب کی مدد سے، جس میں انسانی جسم کے تہہ در تہہ حصوں کے ہاتھ سے بنائے ہوئے بہت سے پیچیدہ خاکے ہیں، امریکہ کے شہر سینٹ لوئس میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی کی ڈاکٹر مکینن اپنا کام مکمل کرتی ہیں

اس کا نام ’پرنکوف ٹوپوگرافک اناٹمی آف مین‘ ہے اور اسے دنیا بھر میں اعضائے بدن کے خاکوں کی سب سے جامع کتاب مانا جاتا ہے۔ اس میں انسانی جسم کی ساخت پر بہت تفصیل کے ساتھ کام کیا گیا ہے اور اس میں رنگ بھی دوسری کتابوں سے زیادہ واضح ہیں۔
جلد، پٹھے، نسیں، رگیں، دیگر اعضا اور ہڈیوں کو بڑی گرافک تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ اس لیے یہ کمزور دل افراد کے دیکھنے والی چیز نہیں ہے۔
لیکن پرنکوف اٹلس کے نام سے جانی جانے والی یہ کتاب اب نہیں چھپتی اور اس کا سیکنڈ ہینڈ ایڈیشن جس کی کئی جلدیں ہیں، آن لائن پر ہزاروں ڈالر میں فروخت کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس کے اتنا زیادہ مہنگا ہونے کے باوجود کچھ ڈاکٹر اسے اپنی کلینک، لائبریری یا گھر میں رکھنا چاہتے ہیں۔
کیونکہ اس میں نازیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سینکڑوں افراد کے جسموں پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج درج ہیں۔ اس کے ہزاروں صفحات پر ان افراد کے کٹے اور چاک کیے گئے اجسام کے خاکے بھی موجود ہیں۔
کتاب پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ اس پر سیاہ ماضی کے دھبے ہیں اور سائنسدان اس کشمکش میں ہیں کہ کیا اس کا استعمال اخلاقی طور پر درست ہے۔
ڈاکٹر مکینن کہتی ہیں کہ انھیں اس کا ماضی یا نقطۂ آغاز تکلیف ضرور پہنچاتا ہے لیکن اس کا استعمال بھی اخلاقی طور پر کسی بھی سرجن کے لیے نہایت ضروری ہے اور وہ اس کے بغیر اپنا کام اچھی طرح نہیں کر سکتی تھیں۔
ربی جوزف پولاک، جو کہ خود ہیلتھ لا کے پروفیسر ہیں اور جو ہولوکاسٹ میں بچنے والوں میں سے ایک ہیں، کہتے ہیں کہ یہ ایک اخلاقی معمہ ہے کیونکہ یہ ’حقیقی برائی‘ سے لیا گیا ہے، تاہم اسے انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب ایک ممتاز ڈاکٹر ایڈورڈ پرنکوف کے 20 سالہ پراجیکٹ کا نتیجہ ہے۔ وہ ایک نازی تھے اور اڈولف ہٹلر کی حمایت کی وجہ سے آسٹریا کے تعلیمی شعبے میں تیزی سے ترقی کرتے گئے۔
ان کے رفقاء انھیں ایک پکا نیشنل سوشلسٹ کہتے تھے جو 1938 سے ہی ہر روز کام پر نازی یونیفارم پہن کر آتے تھے۔
جب انھیں یونیورسٹی آف ویانا میں میڈیکل سکول کا ڈین بنایا گیا تو انھوں نے فیکلٹی سے سبھی یہودیوں کو نکال دیا۔ نکالے جانے والوں میں تین نوبل انعام یافتہ افراد بھی موجود تھے۔
1939 میں ایک نئے تھرڈ ریش قانون کے تحت سزائے موت پانے والے ہر قیدی کے جسم کو تحقیق اور تعلیمی مقاصد کے لیے فوری طور پر اناٹمی کے قریبی شعبے میں بھیجا گیا۔
ہارورڈ میڈیکل سکول کی ڈاکٹر سبین ہلڈے برانڈ کہتی ہیں کہ ایٹلس میں 800 میں سے کم از کم آدھے جسم سیاسی قیدیوں کے ہیں۔ ان میں ہم جنس مرد اور عورتوں کے علاوہ خانہ بدوش، سیاسی منحرف اور یہودی شامل تھے۔
1937 میں چھپنے والی ایٹلس کے پہلے ایڈیشن میں خاکے بنانے والے ایرک لیپیئر اور کارل اینڈٹریسر کے دستخطوں کے علاوہ سواستیکا اور ایس ایس کا نشان بھی موجود ہے۔
1964 میں چھپنے والے انگریزی ایڈیشن میں بھی اصل دستخط اور نازی نشان شامل تھے۔ اس کے بعد والی جلدوں میں نازی نشانات کو مٹا دیا گیا تھا۔
اٹلس کی دنیا بھر میں ہزاروں کاپیاں فروخت ہوئیں اور پانچ زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی ہوا۔ ان کے دیباچوں میں کتاب کی ڈرائنگز کو بہت زیادہ متاثر کن اور آرٹ کے شاندار نمونے کہا گیا ہے۔ لیکن ان میں اس کتاب کے خون آلودہ ماضی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
1990 کی دہائی میں طالب علموں اور اساتذہ نے یہ سوال کرنا شروع کر دیے کہ کتاب میں شائع ہونے والے خاکے کن افراد کے ہیں۔ جب اس کے ماضی کا پتہ چلا تو 1994 میں اس کتاب کی اشاعت بند کر دی گئی۔
رائل کالج آف سرجنز کا کہنا ہے کہ یہ کتاب برطانیہ میں استعمال نہیں ہوتی اور یہ صرف تاریخی اہمیت کی وجہ سے لائبریریوں میں موجود ہے۔
تاہم حال ہی میں نیوروسرجری سروے میں پتہ چلا ہے کہ 59 فیصد نیورو سرجن پرنکوف اٹلس سے آشنا ہیں اور 13 فیصد ابھی بھی اسے استعمال کر رہے ہیں۔
سروے میں 69 فیصد لوگوں نے کہا کہ اس کی تاریخ جاننے کے بعد بھی وہ اسے استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ 15 فیصد کے لیے یہ تکلیف دہ ہے اور 17 فیصد اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے۔
اس کتاب کی درستگی اور تفصیل کا کوئی اور کتاب مقابلہ نہیں کر سکتی اور یہ پیچیدہ سرجریوں کے لیے بہت فائدے مند ہے۔ کیونکہ یہ بتاتی ہے کہ ہمارے جسم میں موجود کئی چھوٹی اعصابی رگوں میں سے ممکنہ طور پر کون سی تکلیف پہنچا رہی ہیں۔
لیکن وہ اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ سرجری میں شامل ہر فرد کو اس کتاب کے سیاہ ماضی کے متعلق علم ہو۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب مجھے اس اٹلس کے داغدار اور برے آغاز کا انکشاف ہوا تو میں نے اسے اپنے آپریٹنگ لاکر روم میں محفوظ طریقے سے رکھنا شروع کر دیا۔
ذرا ڈاکٹر میکنن کی طرف دیکھیں۔ وہ اپنے شعبے کی ماہر ہیں اور انھیں پھر بھی ایک رگ نہیں ملی۔ مریض نے انھیں کہا کہ اگر انھیں رگ نہ ملی تو وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ٹانگ کاٹ دی جائے‘۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ایسا ہو۔
سو انھوں نے دل پر پتھر رکھا اور ارنکوف اٹلس سے مدد حاصل کی۔ ان کو خاکوں کی مدد سے وہ رگ منٹوں میں مل گئی۔
جنگ کے بعد پرنکوگ گرفتار ہو گئے اور انھیں یونیورسٹی سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ انھیں تین سال تک اتحادی جنگی قیدیوں کے کیمپ میں رکھا گیا لیکن ان پر کسی جرم کی وجہ سے کبھی کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔
رہا ہونے کے بعد وہ دوبارہ یونیورسٹی آ گئے اور اٹلس پر اپنا کام جاری رکھا، 1952 میں انھوں نے تیسرا ایڈیشن شائع کیا۔ ان کا انتقال 1955 میں چوتھے ایڈیشن کی اشاعت سے کچھ دیر پہلے ہوا۔
اناٹمی پڑھانے والی ڈاکٹر ہلڈے یبرانڈ کے مطابق 60 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہ اٹلس اپنے تفصیلی اناٹمیکل اور سرجیکل کام اور تصویری معلومات کی وجہ سے بہترین ذرائع میں سے ایک ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم میں سے جس کسی نے بھی اس سے دیکھنا سیکھا ہے وہ اسے جب بھی کوئی سوال سامنے آتا ہے استعمال کرتا ہے۔ پری فرل یا اعصابی رگوں کی بیرونی سرجری میں کچھ سرجنز کے مطابق یہ اپنا ثانی نہیں رکھتی اور معلومات کا بے بدل ذریعہ ہے۔‘
لیکن وہ کہتی ہیں کہ وہ ذاتی طور پر اس کتاب کو اس وقت تک استعمال نہیں کرتیں جب تک وہ اس کے ماضی پر بات نہ کر لیں۔
یونیورسٹی آف برسٹل کے ڈاکٹر جوناتھن آئیوز کتاب کی ’حیران کن تفصیل‘ سے تو متفق ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے خوفناک ماضی نے اسے داغدار بنایا ہوا ہے۔
’اگر ہم اس کو استعمال کرتے ہیں اور اس سے مستفید ہوتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی طرح اس جرم میں شریک بھی ہیں۔
’لیکن آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسے استعمال نہ کرنے سے یہ اٹلس گم ہو جائے گی اور یہ نہیں یاد دلایا جائے گا کہ کیا ہوا تھا۔‘
ڈاکٹر مکینن سمجھتی ہیں کہ اگرچہ اس کا ماضی فراموش نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ کتاب پھر بھی ایک اہم ٹول ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو ہے اور یہ اس قدر نایاب

بلڈ گروپ آر ایچ نیگیٹو اور یہ اس قدر نایاب

یہ افراد دنیا کے وہ 15 فیصد افراد ہیں جن میں اب تک معلوم شدہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے