راہول گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ سری نگر کے لیے روانہ

راہول گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ سری نگر کے لیے روانہ

کشمیر: مقبوضہ جموں و کشمیر کے شعبہ اطلاعات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا گیا

مقبوضہ جموں و کشمیر کے شعبہ اطلاعات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا گیا جس میں راہول گاندھی کو خبردار کیا گیا کہ ‘وہ سری نگر کا دورہ نہ کریں، اس وقت وہ دوسروں کو بھی مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔
کانگریس رہنما کے ہمراہ دیگر جماعتوں میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، ترینامول کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم)، درویندا مُنیترا کازہگم (ڈی ایم کے) اور راشتریہ جنتا دل کے رہنما شامل ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور راجیا سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد بھی شامل ہیں جبکہ ان کے ہمراہ آنند شرما بھی موجود ہیں۔
غلام نبی آزاد موجودہ صورتحال میں پہلے بھی سری نگر جاچکے ہیں تاہم انہیں وہاں ایئرپورٹ سے ہی واپس نئی دہلی روانہ کردیا گیا۔
غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ ’تمام جماعتیں اور رہنما ذمہ دار ہیں، ہم وہاں قانون توڑنے کے لیے نہیں جارہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہت تشویشناک ہے، یہ پچھلے 20 روز سے بند ہے، اس علاقے سے پچھلے 20 روز سے کوئی خبر نہیں آرہی، لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ وہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو قومی رہنماؤں کو وہاں جانے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟
یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق کانگریس رہنما راہول گاندھی بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ‘جموں و کشمیر کو یک طرفہ طور پر تقسیم کرنے، عوامی نمائندوں کو قید کرنے اور آئین کی خلاف ورزی سے قومی یکجہتی میں اضافہ نہیں ہوگا۔’
انہوں نے کہا کہ ‘بھارتی قوم زمین کے پلاٹوں سے نہیں عوام سے بنی ہے جبکہ اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔’

یہ بھی پڑھیں

'اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

‘اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

ایران : صدر حسن روحانی نے واشنگٹن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے