افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

پشاور: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور کے دوسرے روز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہماری عمومی گفتگو ہوئی اور کل ہم عملدرآمد کے بارے میں بات چیت کریں گے‘

امریکا اور طالبان کے درمیان امریکی افواج کے انخلا، جنگ بندی، بین الافغان مذاکرات اور افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت کے حوالے سے بات چیت کے 8 ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔
اشرف غنی کی حکومت کو ماننے سے انکاری ہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ افواج کے انخلا کے ٹائم فریم پر سمجھوتہ ہونے کی صورت میں وہ امن معاہدے کے لیے بین الافغان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
دوسری جانب اپنی گفتگو میں سہیل شاہین نے افواج کے انخلا کے اوقات کار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا البتہ افغان میڈیا میں طالبان ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی مدت 15 ماہ سے 2 سال کے درمیان ہے۔
اس ٹائم فریم کی تصدیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جب دونوں فریقین عملدرآمد کے طریقہ کار پر رضامند ہوجائیں گے تو اس کا باضابطہ اعلان کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

آئی ایم ایف کا یہ وفد پاکستان کے دورےمیں اہم ملاقاتیں کرےگا

آئی ایم ایف کا یہ وفد پاکستان کے دورےمیں اہم ملاقاتیں کرےگا

اسلام آباد: آئی ایم ایف کا یہ ایس او ایس مشن ہے ، جو کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے