خود کش حملے کے بعد صرف کابل میں شادیوں کی 25 سے زائد تقریبات ملتوی کی گئیں

خود کش حملے کے بعد صرف کابل میں شادیوں کی 25 سے زائد تقریبات ملتوی کی گئیں

کابل: وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ابتدائی طور پر 63 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی لیکن ہسپتال میں کچھ مزید زخمی دوران علاج دم توڑ گئے

ان کا کہنا تھا کہ ’مزید 17 افراد زخموں کی تاب نہ لاسکے اور دم توڑ گئے جبکہ 160 افراد کا علاج اب بھی ہسپتال اور گھروں میں جاری ہے‘۔
اس ضمن میں وزارت داخلہ کے ایک اور ترجمان کا کہنا تھا کہ 160 زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے جن میں کچھ کی حالت اس قبل بھی نہیں کہ سرجری کی جاسکے۔
اس دھماکے کی ذمہ داری داعش سے وابستہ ایک مقامی تنظیم نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اہلِ تشیع برادری کو نشانہ بنایا۔
تاہم دلہن اور دلہا اس ہولناک دھماکے میں محفوظ رہے تھے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو یہ بھی خوف تھا کہ کہیں جنازوں کو بھی نشانہ نہ بنادیا جائے۔
شادی کی تقریب میں اس ہولناک حملے کے بعد بہت سے افغانوں نے شادیوں اور دیگر تقریبات کو فی الحال کے لیے منسوخ یا موخر کرتے ہوئے حکومت سے سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
افغان پولیس ذرائع کے مطابق حالیہ خود کش حملے کے بعد صرف کابل میں شادیوں کی 25 سے زائد تقریبات ملتوی کی گئیں۔
اس حوالے سے شادی ہال یونین کے سربراہ محمد نادر کارغی کا کہنا تھا کہ ’ہم حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں لہٰذا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہمیں بہتر سیکیورٹی فراہم کریں، تحفظ ہمارا حق ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اہم معاہدہ طے پایا گیا

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اہم معاہدہ طے پایا گیا

اسرائیل: اسرائیلی حکام کے مطابق موساد کے نام سے مشہور اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے