مسئلہ کشمیر غیر جمہوری طریقے سے حل نہیں ہوسکتا

مسئلہ کشمیر غیر جمہوری طریقے سے حل نہیں ہوسکتا

بھارت : بھارتی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا اور ریاست کو 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل کرنے کا بل پیش کیا تھا

بھارتی حکومت کے فیصلے سے بھارت کے دیگر ریاستوں کی عوام کو بھی مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور رہائش اختیار کرنے کا حق حاصل ہوا جس کے بارے میں ڈاکٹر امرتیا سین کا کہنا تھا کہ ‘اس بات کا فیصلہ جموں و کشمیر کی عوام کو کرنے دینا چاہیے تھا’۔
یہ کشمیریوں کی زمین ہے اور اس حوالے سے ان کا نقطہ نظر قانونی ہے’۔
انہوں نے حکومت کے مقبوضہ کشمیر کے اہم سیاسی رہنماؤں کو زیر حراست میں لینے کے بی جے پی حکومت کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔
مجھے نہیں لگتا کہ آپ کبھی مقامی رہنماؤں کی آواز سنے بغیر انصاف کرسکتے ہو اور اگر آپ ہزاروں رہنماؤں پر پابندیاں عائد کردو اور ان میں سے کئی نامور رہنما جو ملک کی قیادت کرچکے ہیں اور ماضی میں حکومتیں بنا چکے ہیں، کو جیلوں میں ڈال دو، تو آپ جمہوریت کا گلا گھونٹ رہے ہو’۔
بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کی حراست کے اقدام کے فیصلے کو احتیاطی تدابیر قرار دیے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ خلاصی حاصل کرنے کا قدیم نو آبادیاتی طریقہ ہے، اس ہی طرح برطانیہ نے ملک کو 200 سال تک چلایا’۔
‘آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم دوبارہ احتیاطی اقدامات کا بتا کر لوگوں کو حراست میں لیے جانے کے نو آبادیاتی ورثے پر عمل پیرا ہوں گے، مجھے اس کی کبھی امید نہیں تھی’۔

یہ بھی پڑھیں

'اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

‘اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

ایران : صدر حسن روحانی نے واشنگٹن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے