ایران اور یورپ کے درمیان مذاکرات کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے، ترجمان وزارت خارجہ

ترجمان وزارت خارجہ نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی ملکوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے مذاکراتی عمل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی ملکوں کے وعدوں کے بارے میں مذاکرات اور صلاح ومشورے کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران ایٹمی معاہدے کے بارے میں اپنے بعض وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کرنے کے تیسرے مرحلے کا پروگرام تیار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو ایران کی جانب سے دی گئی ساٹھ روز کی مہلت اب ختم ہونے والی ہے اور مہلت کے ختم ہوتے ہی اسلامی جمہوریہ ایران تیسرا قدم اٹھانے والا ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایرانی آئیل ٹینکر کو چھوڑے جانے کا برطانوی آئیل ٹینکرکے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کو ایرانی سپاہ پاسداران نے اس وقت پکڑ لیا تھا جب اس نےسمندری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی آئیل ٹینکر کو ایرانی عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا – ترجمان وزارت خارجہ سید عباس موسوی نے ایرانی آئیل ٹینکر کو دوبارہ روک لئے جانے کے امکان کے بارے میں خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ اقدام انجام پاتا ہے یا اس بارے میں کوئی بیان بھی آتا ہے تو یہ بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کے لئے ایک طرح کی دھمکی اور خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے سرکاری چینلوں اور خاص طور پر تہران میں سوئیزرلینڈ کے سفارت خانے کے توسط سے امریکی حکام کو ضروری انتباہات منتقل کردئے ہیں تاکہ وہ ایسی غلطی نہ کریں کیونکہ اس صورت میں انہیں برے نتائج کاسامنا کرنا پڑے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بحران یمن کے موضوع پر  تہران میں ایران، یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ اور چار یورپی ملکوں کے سہ فریقی اجلاس کے بارے میں کہا کہ اس اجلاس میں اچھی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی اور سب نے کھل کر اپنی اپنی باتیں سامنے رکھیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ یمن پر حملہ کرنے والے ممالک بھی سیاسی حل پر یقین کرنے پر تیار ہوجائیں گے۔ انہوں نے بحرین کے حالات اور واقعات کے بارے میں بھی کہا کہ تہران بحرین کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کررہا ہے لیکن اس کو وہاں کے حالات پر سخت تشویش ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جو اقدامات شروع کئے گئے بحرینی حکومت بھی ان کا ساتھ دے گی۔ ترجمان وزارت خارجہ نے افغانستان سے متعلق امن مذاکرات کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ایران نے ہمیشہ علاقے میں امن و استحکام کی برقراری کی حمایت کی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ افغانستان سے متعلق جتنے بھی امن مذاکرات ہوں وہ افغان حکومت کی شرکت اور قانونی دائرے میں ہوں۔ ترجمان سید عباس موسوی نے افغانستان کے بارے میں ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے سلسلے میں رویٹر کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا افغانستان کے مسئلے پر امریکا سے بات چیت کرنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے – ان کا کہنا تھا کہ علاقے سے باہر حکومتیں علاقے میں امن نہیں چاہتیں۔

مودی کی مخالفت میں اضافہ، کانگریس نے آرٹیکل 370 بحال کرنےکا مطالبہ کردیا

یہ بھی پڑھیں

'اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

‘اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

ایران : صدر حسن روحانی نے واشنگٹن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے