شیخ ابراہیم الزکزکی سنہ 2015 سے ریاستی تحویل میں ہیں اور ان کی رہائی کے لیے گاہے بگاہے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں

شیخ ابراہیم الزکزکی سنہ 2015 سے ریاستی تحویل میں ہیں اور ان کی رہائی کے لیے گاہے بگاہے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں

نائجیریا : ان کی اپنی اہلیہ کے ہمراہ نائجیریا واپسی کی وجہ مبینہ طور پر انڈیا میں علاج معالجے کی دی گئی سہولیات سے ناخوش ہونا بتائی گئی ہے

نائجیریا میں حکام نے سنہ 2015 سے شیخ ابراہیم الزکزکی کو حراست میں لیا ہوا تھا اور گذشتہ ہفتے ہی انھیں علاج کی غرض سے ملک چھوڑنے کی اجازت دی تھی۔
یہ اجازت گذشتہ ماہ شمالی نائجیریا کے شہر کاڈونا کی ایک عدالت کی جانب سے شیخ الزکزکی کو علاج کے لیے ملک سے باہر لے جانے کا حکم سامنے آنے کے بعد دی گئی تھی۔
شیخ ابراہیم الزکزکی کی جانب سے کہا گیا کہ انڈیا چھوڑنے کی وجہ وہاں مبینہ طور پر غیر تسلی بخش علاج تھا۔ خبروں کے مطابق شیعہ رہنما نے کہا کہ وہ ہسپتال جہاں ان کا علاج کیا جا رہا تھا، اُس کی حالات نائجیریا کے ہسپتالوں سے بھی زیادہ بری تھی۔
نائجیریا کے نجی اخبار ‘دا کیبل’ کے مطابق اخبار کے ذرائع نے بتایا کہ شیخ ابراہیم الزکزکی کی وطن واپسی کی وجہ نائجیرین حکومت کی جانب سے ان کے علاج معالجے میں رکاوٹیں پیدا کرنا بنا۔
شیخ ابراہیم الزکزکی کو سنہ 2015 میں ملک کی شمالی ریاست کاڈونا میں اپنے حامیوں اور فوج کے درمیان جھڑپ کے بعد اقدام قتل اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان جھڑپوں میں کالعدم شیعہ اسلامک موومنٹ کے 347 اراکین ہلاک ہوئے تھے جبکہ سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا جن میں شیخ الزکزکی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔
زکزکی کے حامی ان کی رہائی کے لیے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں باقاعدگی سے مظاہرے کرتے رہے ہیں جن میں پُرتشدد واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
نائجیریا کی شیعہ اسلامک موومنٹ کو، جس کی قیادت شیخ زکزکی کرتے ہیں، ملک میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سنہ 2015 سے نائجیریا کے حکام اسلامک موومنٹ کے خلاف بہت زیادہ طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔
ابراہیم یعقوب الزکزکی 5 مئی 1953 کو زاریا، افریقہ میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔
شیخ ابراہیم زکزکی کا تعلق ملت جعفریہ نائیجیریا سے ہے۔ شیعہ و سنی مسلمان ان سے بلا تفریق عقیدت رکھتے ہیں، حتیٰ کہ مقامی عیسائی بھی انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
شیخ زکزکی خود امام خمینی کے افکار سے متاثر ہو کر شیعہ اثنا عشری ہوئے اور پھر اپنے افکار کی تبلیغ جاری رکھی۔
اس وقت ان کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ آیت اللہ شیخ براہیم زکزکی حافظ قرآن بھی ہیں۔ وہ یونیورسٹی دور سے ہی مبلغ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

'اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

‘اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

ایران : صدر حسن روحانی نے واشنگٹن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے