نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس بیت گئے

نصرت فتح علی خان نے 16 سال کی عمر میں صوفی قوالی کا رنگ اپنایا اور قوالی کے ساتھ غزلیں،کلاسیکل اور صوفی گیت بھی گائے

پاکستان، بھارت، برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے منفرد صوفی انداز سے سب کو اپنا گرویدہ بنانے والے استاد نصرت فتح علی خان نے اردو، پنجابی اور فارسی زبان میں قوالیاں اور غزلیں گائیں جنہیں بے حد سراہا گیا۔
انہوں نے قوالیوں اور غزلوں سمیت ملی نغمے بھی گائے جن میں ’میرا پیغام پاکستان‘ سب سے زیادہ مقبول ہے۔
متعدد بھارتی فلموں کے گانوں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا، خاص کر بالی وڈ کی مشہور فلم دھڑکن کا گانا ‘دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے’ کو تو بے حد پزیرائی ملی۔
ان کی کئی قوالیوں اور گیتوں کو پاکستان و بھارت کے گلوکاروں نے اپنے اپنے انداز میں گایا ہے۔
شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان جگر اور گردے کی تکلیف کے باعث 16 اگست 1997 کو دنیائے فانی سے کوچ کرگئے لیکن ان کے گائے گئے گیت امر ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں

جمشید پرستاروں کی یادوں میں آج بھی زندہ

جمشید پرستاروں کی یادوں میں آج بھی زندہ

کراچی: جنید جمشید نے نوے کی دہائی میں وائٹل سائنز میوزیکل گروپ بنایا تو تہلکہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے