عظیم ہجرت

تقسیم پاک و ہند کے حوالے سے کچھ ایسے سنگین واقعات ہیں کہ انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔

پاکستان بنے 71 سال ہوگئے ہیں۔ ہمارے ملک نے ایک پہچان پانے کےلیے نہ جانے کتنی مصیبتیں برداشت کیں، اس کا اندازہ آج کی نسل لگا ہی نہیں سکتی۔

ہمارے بڑے تقسیم برصغیر کے حوالے سے کچھ ایسے سنگین واقعات بیان کرتے ہیں کہ انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ جب ہم یہ واقعات سن کر ہی کانپ جاتے ہیں تو سوچیں جنھوں نے یہ سب دیکھا اور جھیلا، وہ کیسے جی سکتے ہوں گے۔

تقسیم پاک و ہند میں مسلمانوں نے اپنی جانیں، اپنا مال و دولت، اپنا ورثہ، عزتیں سب کچھ گنوا دیا، صرف اس پاک وطن کو حاصل کرنے کےلیے۔

27 رمضان المبارک کی وہ کڑی صبح، جب قیام پاکستان کا اعلان ہوا تو ہر طرف ہنگامے پھوٹ پڑے۔ بے یارو مددگار مسلمان کہیں زندہ تو کہیں مردہ پڑے تھے۔ روزے کی حالت میں جب ہمارے بزرگوں نے ہجرت شروع کی تو کیا مشکلات اُٹھائی تھیں؟ یہ تو صرف وہی جانیں۔ ایسے بھی واقعات سننے میں آئے کہ پاکستان آنے والی پہلی ہجرت ٹرین کی 9 بوگیاں تھیں، تقریباً ہزار مسافر سوار تھے۔ جب ریل گاڑی لاہور اسٹیشن پر آکر رکی تو صرف 8 مسافر زندہ تھے، وہ بھی بری طرح زخمی تھے۔

امرتسر اور لاہور کے راستے میں ٹرینوں پر 54 سے زائد حملے ہوئے۔ ان تمام مصیبتوں کو بیان کرنا بہت مشکل اور تکلیف دہ ہے، مگر ان واقعات کی کچھ قیمتی تصاویر ایسی ہیں جن کو دیکھ کر ہم پاکستانی اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا اندازہ کرسکتے ہیں۔

ہمارے بزرگوں نے اپنی آنے والی نسلوں کےلیے ہجرت کی اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہجرت کرنے والوں نے رمضان کے آخری روزے اور عید کن حالات میں گزاری ہوگی صرف وہ جانیں یا اللہ جانے۔ پاکستان کے راستے میں بے گوروکفن مارے جانے والے مسلمان، ہم ان کی کسی ایک قربانی کا بھی حساب نہیں دے سکتے۔

تقسیم ہند کے ساتھ ہی دونوں ممالک میں ہنگامے ہوئے۔ مہاجرین پر حملے بھی ہوئے اور کروڑوں لوگ مارے گئے۔ یوں حاصل ہوا تھا یہ پاکستان، جہاں آج ہم آزادی کی سانس لے رہے ہیں۔ ہماری ہر سانس اس ملک کی قرض دار ہے۔ 14 اگست 1947 وہ دن ہے جو شہیدوں کے لہو سے رنگین ہے۔ قربانیوں کی داستان، خون کی وہ لکیر ہے جس سے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی آنے والی نسلوں کےلیے علیحدہ وطن کی تاریخ لکھی تھی۔

یہ ملک بڑی محنت اور قربانیوں سے حاصل ہوا، اس کی قدر کریں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان امریکہ کی بیساکھی تو نہیں بن رہا….؟

 کیا پاکستان کو امریکہ کی دوستی سے آج تک کوئی فائدہ حاصل ہوا ہے؟ تحریر: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے