ایس ای سی پی کی جانب سے مزید 13 غیر منافع بخش تنظیموں (این پی او) کے لائسنس کی منسوخی

ایس ای سی پی کی جانب سے مزید 13 غیر منافع بخش تنظیموں (این پی او) کے لائسنس کی منسوخی

اسلام آباد: این پی اوز کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 42 کے تحت رجسٹر کیا جاتا ہے اور 13 این پی اوز کا لائسنس، اکاؤنٹس اور ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے سمیت دیگر ضروریات پوری نہ کرنے پر واپس لیا گیا

ایس ای سی پی کے مطابق ان میں سے چند کمپنیاں آپریشنل نہیں تھیں، ان کے لائسنس کی منسوخی کے بعد ان کمپنیوں کو رضاکارانہ طور پر بند ہونے کے لیے کارروائی پر عمل کرنا ہوگا۔
قانون کے مطابق اگر کسی ادارے کے پاس کوئی اثاثہ یا قرض نہیں ہو تو اسے کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 43 کے تحت کمپنیوں کے رجسٹر سے اپنا نام ہٹانے کے لیے درخواست دینی ہوگی۔
ایس ای سی پی میں ایک ہزار سے زائد این پی اوز رجسٹرڈ ہیں جن میں 303 کا متعدد وجوہات کی بنا پر فہرست سے اخراج کیا گیا۔
ایس ای سی پی کے سینیئر حکام کا کہنا ہے کہ فہرست سے اخراج کیا جانا معمول کی کارروائی ہے اور اس کا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سمیت عالمی اعتراضات سے کوئی تعلق نہیں۔
‘آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سمیت کئی اداروں کا ان کی انتظامیہ نے فہرست سے اخراج کیا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘این پی اوز کو بند کرنے کے کئی وجوہات ہیں کیونکہ کئی اداروں کی انتظامیہ کمرشل کمپنی بننے کا فیصلہ بھی کرلیتی ہیں جو منافع کماسکیں یا کسی دیگر این جی او یا این پی او سے اپنے آپریشنز کا الحاق کرکے ایک ادارہ بند کرسکیں’۔

یہ بھی پڑھیں

شیخ رشید نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسوں کا اعلان کردیا

شیخ رشید نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسوں کا اعلان کردیا

راولپنڈی: وزیر ریلوے شیخ رشید نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسوں کا اعلان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے