مریم نواز اور یوسف عباس کو احتساب عدالت پیش کردیا

مریم نواز اور یوسف عباس کو احتساب عدالت پیش کردیا

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں تفتیش کے لیے طلب کیا تھا تاہم انہوں نے نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کی اور جیل میں قید اپنے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے چلی گئی تھیں

مریم نواز کے نیب کے سامنے پیش نہ ہونے پر باقاعدہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور تحویل میں لیتے ہوئے انہیں وہ وارنٹ بھی دکھائے گئے تھے۔
نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں مریم نواز کا جسمانی ریمانڈ لینے کی درخواست کی سماعت جج نعیم ارشد نے کی۔
نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ اور حارث قریشی جبکہ مریم نواز اور یوسف عباس کی جانب سے ان کے وکیل ایڈوکیٹ امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔
مریم نواز کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور جوڈیشل کمپلیکس میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بھی ممنوع قرار دے دیا گیا۔
اپنے رہنماؤں سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مسلم لیگ (ن) کارکنان احتساب عدالت کے باہر پہنچے اور نعرے بازی کی۔
پولیس کی بھاری نفری کو احتساب عدالت کے اندر اور باہر تعینات کرنے کے ساتھ عدالت کے اطراف میں آمد و رفت کے تمام راستوں کو کنٹینرز، خاردار تاریں اور رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔
چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔
جس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔
31 جولائی کو تفتیش کے لہیے نیب کے طلب کرنے پر وہ پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔
یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔
نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

حمزہ شہباز کیخلاف آمدن سے زائداثاثہ جات اورمنی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی

لاہور: نیب حکام نے تحقیقات کے لئےمزید ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے بتایاوعدہ معاف گواہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے