اگر یہ سب پسند نہیں تو پاکستان چلی جاو

بولی وڈ کی مسلم شوبز شخصیات بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے پر سراپا احتجاج ہیں

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے پر جہاں دیگر شوبز شخصیات نے اپنا رد عمل کا اظہار کیا تھا، اب اداکارہ ہما قریشی اور ان کے بھائی اداکار ثاقب سلیم نے بھی خاموشی توڑی۔

ہما قریشی اور ثاقب سلیم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے کرفیو، وہاں کی سیاسی قیادت کو نظر بند کیے جانے اور وہاں پر بھاری مقدار میں فوج تعینات کیے جانے پر خدشات کا اظہار کیا۔

ہما قریشی نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا سنگین مسئلہ ہے اور اس معاملے پر رائے دینے والے افراد کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کسی کو کچھ سوچے سمجھے بغیر دوسرے کی سیکیورٹی کے لیے مسائل پیدا نہیں کرنے چاہئیں۔

اداکارہ نے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر بے جا بات کرنے والے افراد کو درخواست کی کہ وہ وہاں پر لوگوں کے ساتھ ہونے والے ظلم سے باخبر ہیں، اس لیے وہ کوئی بھی بات کرنے سے قبل سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

اداکارہ کی جانب سے ٹوئیٹ کیے جانے کے بعد درجنوں افراد نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر پاکستان سے کمیشن لینے کا الزام بھی عائد کیا۔

جہاں لوگوں نے اداکارہ کو تنقید کا نشانہ بنایا، وہیں کچھ افراد نے انہیں تجویز دی کہ اگر انہیں یہ سب چیزیں پسند نہیں تو وہ پاکستان چلی جائیں۔

تاہم ثاقب سلیم نے پاکستان جانے کا مشورہ دینے والے افراد کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھارتی ہونے پر فخر ہے اور کسی کو ان کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، وہ جہاں بھی ہیں، ٹھیک ہیں۔

واضح رہے کہ ہما قریشی اور ثاقب سلیم کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور اب بھی ان کے خاندان کے کئی افراد وادی میں مقیم پذیر ہیں اور گزشتہ کئی دن سے دونوں اداکاروں کا اپنے اہل خانہ سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

یہ بھی پڑھیں

ہمارے یہاں کوئی امتیاز نہیں بلکہ فن کی قدر ہے

کراچی: اداکارہ مہوش حیات نے کہا ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری نے بالی ووڈ اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے