مقبوضہ کشمیر کریک ڈاون کے دوران 6 افراد زخمی

نئی دہلی: مقبوضہ کشمیر میں فوجی کریک ڈاؤن کے باعث اب تک کم از کم 6 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبوضہ وادی میں   موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل ہے۔ سری نگر کے ہسپتال میں اب تک گولی لگنے سے زخمی ہونے والے 6 افراد کو لایا گیا۔ ایمبولینسز کو بھی سیکیورٹی چیک پوائنٹ سے گزرنے نہیں دیا جارہا۔

وادی میں عوامی اجتماعات اور ریلیوں پر بھی پابندی عائد ہے جبکہ جموں و کشمیر کے 2 سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

وادی میں پیر کے روز سے وقفے وقفے سے گولیاں اور دیگر اسلحہ چلنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور بھارتی ظلم حکومت نے ہر 5 قدم پر فوجی کھڑے کردیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے ترجمان روپرٹ کول ول کا کہنا تھا کہ وادی میں مواصلاتی نظام کا بند ہونا اور سیکیورٹی سخت کیا جانا نہایت تشویش ناک ہے۔

مواصلاتی نظام کی بندش بلکہ ایسی بندش، جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں اور پر امن اجتماع پر بھی پابندی، ہم تمام معاملات کو بغور دیکھ رہے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے