چائنا نے اپنی کرنسی کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 7 یوآن تک نیچے رکھنے کی منظوری

چائنا نے اپنی کرنسی کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 7 یوآن تک نیچے رکھنے کی منظوری

واشنگٹن: پیپلز بینک آف چائنا نے اپنی کرنسی کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 7 یوآن تک نیچے رکھنے کی منظوری دی، چین کے اس اقدام کو امریکی صدر کے چینی درآمدات پر ٹیرف میں اضافے کا بدلہ قرار دیا جارہا ہے

گرانےکے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ہمارا کاروبار اور فیکٹریاں چرانے، ملازمتوں کو نقصان پہنچانے، ہمارے ملازمین کو افسردہ کرنے اور کسانوں کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے چین کی 300 ارب ڈالر کی درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر چین نے بدلہ لینے کا عندیہ دیا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ نے چین کے اقدام کو مقابلے کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف جانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی رپورٹ میں چین کی جانب سے ڈالر کے مقابلے میں یوآن کو گرانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور چین پر زور دیا گیا ہےکہ وہ کرنسی کو مستقل طور پر گرانے کے اقدام سے گریز کرے۔
چین کی جانب سے کرنسی کو ڈی ویلیو کرنے کے فیصلے کو ایک بڑا اقدام قرار دیا جارہا ہے کیونکہ امریکا کی چین سے تجارت پر پہلے ہی بات چیت جاری ہے جب کہ امریکا چین کی درآمدات پر ٹیرف عائد کرچکا ہے۔
چین کے اقدام سے سرمایہ کاروں کو بھی شدید دھچکا لگا اور وال اسٹریٹ کی مرکزی اسٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 2019 کی بدترین سطح پر ریکارڈ کی جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے