سی پیک کا منصوبہ توانائی اور انفرا اسٹرکچر میں زیادہ تر نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے

سی پیک کا منصوبہ توانائی اور انفرا اسٹرکچر میں زیادہ تر نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے

اسلام آباد: ایک سوال کے جواب میں آئی ایم ایف عہدیدار کا کہنا تھا کہ توانائی کے منصوبوں نے بلا شبہ ملک میں بجلی کی کمی سے نمٹنے میں مدد فراہم کی ہے جو ایک بہت مثبت پہلو ہے

قرض کے استحکام کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ سی پیک کی مد میں لیے گئے قرضے قابلِ انتظام تھے لیکن مجموعی طور پر ملکی قرضوں کی صورتحال مستحکم نہیں۔
ایک اور سوال کے جوب میں ان کا کہنا تھا کہ مالی استحکام، ریونیو کی نقل و حرکت، مارکیٹ کی بنیاد پر شرح تبادلہ اور سماجی شعبے کا تحفظ نئے آئی ایم ایف پروگرام کے 3 بنیادی ستون ہیں۔
مالی استحکام ریونیو سے متعلق ہونا چاہیے تا کہ مالی خسارے کے مسئلے سے نمٹا جاسکے کیوں کہ ملکی مجموعی پیداوار کی شرح میں ٹیکس کا حصہ بہت کم ہے جسے ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات ختم کر کے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
آئی ایم ایف عہدیدار نے کہا کہ صوبوں کے درمیان بہترین تعاون کی شدید ضرورت ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ اخراجات کم کرکے وفاق کو سرپلس بجٹ فراہم کریں۔
قومی مالیاتی کمیشن میں تبدیلی کے لیے آئی ایم ایف نے کوئی شرط نہیں رکھی لیکن صوبوں اور وفاق کے درمیان طے پائے گئے سمجھوتے کی دستاویز میں مالی وفاقیت کا وعدہ کیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف پروگرام کی چیدہ چیدہ اصلاحات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سرکاری شعبے میں مالی نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے مالیاتی انتظام کا نفاذ، مرکزی بینک کی خود مختاری، توانائی کے شعبے کی بہتری، انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کو تقویت دینا اور ایف اے ٹی ایف کی تعمیل کرنا شامل ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہو اور ترقی پر مختصر عرصے کے لیے دباؤ رہے لین آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد معیشت کا استحکام ہے، طویل مدتی بنیادوں پر افراط زر میں کمی اور ترقی رفتار پکڑنا شروع ہوجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

ترنول میں چورنگی نمبر 26 پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

ترنول میں چورنگی نمبر 26 پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

اسلام آباد: جاں بحق اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) محسن ظفر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے