ہم تمام جماعتوں سے لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں

ہم تمام جماعتوں سے لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں

واشنگٹن: جموں اور کشمیر میں ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ہم بھارت کی جانب سے جموں اور کشمیر سے اس کی آئینی حیثیت واپس لینے کے فیصلے اور بھارت کے اس ریاست کو وفاق کے زیرِ انتظام 2 علاقوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں

خیال رہے کہ واشنگٹن سے جاری بیان میں معاملے پر بھارت کے موقف کا حوالہ دیا گیا جبکہ اس میں پاکستان کے موقف کی کوئی بات نہیں کی گئی۔
امریکا کا کہنا تھا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے ان اقدامات کو اندرونی معاملہ قرار دیا ہے’۔
امریکی حکام نے مقبوضہ وادی میں جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘حراست میں لیے جانے کی رپورٹس پر ہمیں تشویش ہے اور ہم انفرادی حقوق کی عزت کرنے اور متاثرہ برادری سے بات چیت کرنے پر زور دیتے ہیں’۔
امریکا نے دونوں ممالک کو لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم تمام جماعتوں سے لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں’۔
امریکا کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے بیان پر بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے