بلدیاتی ادارے استرکاری نہیں کرسکتے تو گڑھوں میں ملبہ ڈال کرانھیں بھر دیں

بلدیاتی ادارے استرکاری نہیں کرسکتے تو گڑھوں میں ملبہ ڈال کرانھیں بھر دیں

کراچی: حکومت سندھ، محکمہ بلدیات اور بلدیاتی اداروں کی غفلت کے باعث شہر بھر کی شاہراہیں اور سڑکیں گڑھوں کے باعث موت کے کنوؤں میں تبدیل ہوچکی ہیں

گہرے گڑھوں میں گاڑیاں پھنسنے لگی ہیں موٹر سائیکل سوار گڑھوں میں گرکر زخمی ہورہے ہیں، گڑھوں کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے اور حادثات معمول بن گئے ہیں۔
وزیر بلدیات اور میئر کراچی اور ضلعی بلدیاتی اداروں کے چیئرمینوں سے اپیل کی ہے کہ اگر سڑکوں کی استری کاری نہیں کرسکتے تو کم از کم گڑھوں میں ملبہ ڈال کر انھیں بھر دیا جائے تاکہ جان لیوا حادثات اور ٹریفک جام سے شہری بچ سکیں۔
حالیہ بارشوں نے جہاں سڑکوں کو گڑھوں میں بدل کر رکھ دیا ہے وہیں شہر بھر کا نکاسی آب کا نظام بھی بری طرح سے متاثر ہے ، شہر کی ہر گلی اور محلے کے علاوہ مرکزی سڑک پر گٹر ابل رہے ہیں اور گندا پانی تالاب کا منظر پیش کررہا ہے، شفیق موڑ سے سہراب گوٹھ انڈر پاس جانے والی سڑک گزشتہ کئی ماہ سے ٹوٹ پھوٹ کی شکار تھی اور رہی سہی کسر حالیہ بارشوں نے پوری کردی مذکورہ سڑک پر گہرے گڑھے پڑنے سے گزرنے والے شہری شدید اذیت سے دوچار ہیں، سڑک پر گاڑیوں کی رفتار سست ہونے کی وجہ سے شفیق موڑ تک بدترین جام ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہے۔
کراچی مں گزشتہ ہفتہ ہونے والی مون سون بارشوں کے بعد شہر کے مختلف علاقوں کورنگی، لانڈھی، عزیز آباد، شیر شاہ، پیپلز چورنگی ، کریم آباد فلائی اوور سے سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت جانے والا ٹریک ، نیوکراچی، ایوب گوٹھ ، یونیورسٹی روڈ، دھوراجی کالونی ، بہادر آباد ، گلشن اقبال ، گلستان جوہر ، انڈہ موڑ ، قلندریہ چورک ، سخی حسن چورنگی، جہانگیر روڈ، جمشیدروڈ، جیل روڈ، اولڈ سٹی ایریاز میں نشتر روڈ، رنچھوڑ لائن، رامسوامی، جوبلی، بوہرا پیر اور لیاری کی کئی سڑکوں پر گہرے گڑھے پڑچکے ہیں جس سے گاڑیاں اور موٹر سائیکل چلانے والوں کو شدید پریشانی اوراذیت کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

گزشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کےسندھ میں مزید 699 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے

گزشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کےسندھ میں مزید 699 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں 24 گھنٹے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے