ملک کے گیس نیٹ ورک نے ’خطرے کی گھنٹی‘ بجادی ہے

ملک کے گیس نیٹ ورک نے ’خطرے کی گھنٹی‘ بجادی ہے

اسلام آباد: گیس کے دباؤ کی بلند سطح کا خمیازہ گیس نیٹ ورک کا تحفظ داؤ پر لگنے، خزانے پر مالی بوجھ اور بین الاقوامی جرمانے کی صورت میں نکل سکتا ہے

وفاقی حکومت کے ساتھ بیک وقت ہونے والی بات چیت میں پی ایس او اور ایس این جی پی ایل نے توانائی کے شعبے کی جانب سے مقرر شدہ مقدار سے کم گیس لینے کی شکایت کی اور خبردار کیا کہ اس کے سنگین نتائج رونما ہوسکتے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ اعلیٰ سطح کے دباؤ کے باعث کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے حکومت نے ایک عبوری انتظام کے تحت مقامی گیس فیلڈز کے ذریعے گیس کی فراہمی میں کمی کردی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر وفاقی حکومت کو ارسال کیے گئے خط میں ایس این جی پی ایل نے شکایت کی ہے کہ 14 جولائی سے بجلی گھروں کی آر ایل این جی (ریگیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس) کی کھپت 714 ایم ایم سی ایف ڈی (ملین کیوبک فیٹ یومیہ) ہے جبکہ تصدیق شدہ طلب 828 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔
بجلی گھروں کی جانب سے آر این ایل جی کی وصولی یکم اگست سے مزید 550 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہوئی ہے اور کھپت میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو مزید دباؤ سسٹم کے لیے تباہ کن اور آر ایل این جی کی فراہمی کے پورے نظام کو تہہ و بالا کرسکتا ہے۔
کمپنیوں کی جانب سے بتایا گیا کہ ’نظام میں گیس کی موجودہ سطح کے نتیجے میں لائن پریشر میں اضافہ ہوا اور پورے نیٹ ورک کے لیے ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا‘۔
ایس این ایل جی کا کہنا تھا کہ گیس کی کم کھپت کے نتیجے میں نظام میں کی گئی گنجائش ختم ہورہی ہے اور دباؤ کے نتیجے میں ’وصول کرو یا ادائیگی کرو‘ کی صورت میں بھاری مالی نقصان کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

31 مئی کو لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی کا فیصلہ کیا جائے گا

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس 31 مئی کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے