برطانیہ کا بریگزٹ پر دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ

برطانیہ کا بریگزٹ پر دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ

برطانوی وزیر عظم نے ایک بار پھر یورپی یونین سے بریگزٹ کے بارے میں دوبارہ مذاکرات کی اپیل کی ہے۔

 فرانس پریس کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے یورپی رہنماؤں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ بریگزٹ معاہدے کے مندر جات کے بارے میں دوبارہ مذاکرات کی مخالفت نہ کریں۔حکومت برطانیہ کا کہنا ہے کہ حالیہ یورپی انتخابات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بریسلز کو اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔بورس جانسن نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اکتیس اکتوبر تک برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ کر لیں گے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ حکمراں جماعت کے بعض اراکین پارلیمنٹ نے دھمکی دی ہے کہ وہ بغیر معاہدے کے علیحدگی کو روکنے کے لیے پارلیمنٹ میں اس کے خلاف ووٹ دیں گے۔بریگزٹ کے منفی اثرات کے بارے میں پائی جانے والی تشویش کی وجہ سے برطانوی کرنسی پونڈ کی قیمت میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔دوسری جانب برطانیہ کے بریگزٹ کے وزیر اسٹیو برکلے نے مقامی جرید میں چھپے اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات نے یورپ کی سیاسی صورتحال کو تبدیل کردیا ہے اور اب پورپی رہنماؤں کو بھی اپنے رویئے میں تبدیلی پیدا لانا پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کے ساٹھ فی صد سے زیادہ ارکان تبدیل ہوچکے ہیں اور یورپی پارلیمنٹ میں آنے والی اس بنیادی تبدیلی کی تقاضا ہے کہ رہنما بھی اپنی سوچ میں تبدیلی پیدا کریں۔قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین برطانیہ کی سابق وزیراعظم ٹریسا مئے کے ساتھ بریگزیٹ سے متعلق  ہونے والے   معاہدے میں کسی تبدیلی یا اس پر دوبار مذاکرات کے لیے تاحال تیار

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 7 کشمیری نوجوان شہید

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے