آئی این ایف معاہدے کے خاتمے پر عالمی رد عمل

آئی این ایف معاہدے کے خاتمے پر عالمی رد عمل

ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے آئی این ایف سے امریکا کی علیحدگی اور پھر جواب میں روس کے بھی اس معاہدے سے نکل جانے کے بعد یہ معاہدہ عملی طور پر جمعہ کو ختم ہوگیا تاہم نیٹو کے بعض ارکان اوریورپ نے اس پر تشویش ظاہر کی ہے۔

 برطانوی وزیرخارجہ ڈومینک راب نے جن کا ملک نیٹو کا ایک اہم رکن ہے آئی این ایف سے پہلے امریکا اور پھر روس کے نکل جانے کے بارے میں دعوی کیا کہ ماسکو آئی این ایف معاہدے کی نابودی کا ذمہ دار ہے۔ پولینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے ٹویٹر پیج پر دعوی کیا ہے کہ روس ہی آئی این ایف کی مکمل تباہی کا ذمہ دار ہے اور اس نے امریکا کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑا۔ دوسری جانب فرانس کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آئی این ایف یورپ کی سلامتی کے لئے ایک بنیادی حیثیت رکھتا تھا جس کے ختم ہوجانے کے بعد اسلحوں کو کنٹرول کرنے والا بین الاقوامی نظام بھی ختم ہوجائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانس ایک بار پھر اسحلے کے کنٹرول اور قانون کی بنیاد پر صحیح معنوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے پر زور دیتا ہے اور امریکا سے درخواست کرتا ہے کہ اسٹارٹ ٹو معاہدے کو اسٹریٹیجک ایٹمی ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کے لئے دوہزار اکیس کے بعد بھی باقی رکھے اور ایک متبادل معاہدے کے لئے مذاکرات شروع کرے۔ نیٹو کے ایک اور اہم رکن جرمنی نے بھی آئی این ایف کے بارے میں امریکا اور روس کے اقدام کی بابت سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جرمن وزیرخارجہ ہیکو ماس نے ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجانے کے بارے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایک بار پھر اسلحوں کے کنٹرول اور خاتمے کے لئے ایک اصول وضع کرنے کی غرص سے نیا معاہدہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جن چیلنجوں کا سامنا ہے وہ آئی این ایف کے خاتمے کے بعد مزید سنگین ہوگئے ہیں اور یہ چیلنج اور مسائل صرف یورپ تک محدود نہیں ہیں۔ جرمن وزیرخارجہ نے کہا کہ برلین اب پہلے سے بھی زیادہ واشنگٹن اور ماسکو سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ اسٹارٹ ٹو معاہدے کو باقی رکھیں۔ یہ معاہدہ بھی دوہزار اکیس میں ختم ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل گوترش نے بھی کہا ہے کہ آئی این ایف کے خاتمے کے بعد دنیا نے ایٹمی جنگ کو روکنے کے ایک طریقہ کار کو اپنے ہاتھ سے کھو دیا ہے۔ آئی این ایف معاہدہ انیس ستاسی میں سابق سویت یونین اور امریکا کے درمیان طے پایا تھا جس کے تحت پانچ سو سے پانچ ہزار پانچ سو کلومیٹر تک کے ایٹمی اورغیر ایٹمی میزائلوں کی تیاری پر روک لگادی گئی تھی۔ واضح رہے کہ واشنگٹن یہ دعوی کرکے اس معاہدے سے الگ ہوگیا تھا کہ ماسکو اس پر عمل نہیں کررہا ہے جبکہ روس نے اس معاہدے کے خاتمے کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیا ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے کسی ایک مطالبے پر تاحال مکمل عمدرآمد نہیں کیا گیا

یہ بھی پڑھیں

امریکی وزیر خارجہ اور صیہونی وزیراعظم کی ملاقات

امریکی وزیر خارجہ اور صیہونی وزیراعظم کی ملاقات

صیہونی حکومت کے وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ نے اس بارے میں تبادلہ خیال کیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے