ملک میں اختلاف رائے کے اظہار پر دباؤ کا سامنا ہے اور اس کے لیے جگہ سکٹرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے

ملک میں اختلاف رائے کے اظہار پر دباؤ کا سامنا ہے اور اس کے لیے جگہ سکٹرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں اپنے دورہ امریکا کے دوران کہا تھا کہ پاکستان میں آزادی صحافت پر قدغن لگائے جانے سے متعلق خبریں ‘مزاق’ ہیں

آر ایس ایف کے سیکریٹری جنرل کرسٹوفے ڈیلوئیری نے ایک خط تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ ‘یہ واضح ہے کہ یا تو آپ کو معلوم ہی نہیں، جس کی وجہ سے آپ کو اپنے قریبی لوگوں کو فوری طور پر ہٹا دینا چاہیے، یا پھر آپ جان بوجھ کر حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں، جو آپ کی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے’۔
آر ایس ایف نے الزام لگایا کہ عمران خان کی جانب سے یہ کہنا کہ پاکستان میں آزادیِ صحافت کامیابی سے پنپ رہی ہے، یہ ‘خلاف تہذیب’ ہے۔
ملک میں حال ہی میں ہونے والی آزادیِ صحافت کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے آر ایس ایف کے چیئرمین نے عمران خان پر زور دیا کہ ‘پاکستان میں صحافیوں کو اپنے پیشے کے مطابق محفوظ طریقے سے کام کی آزادی ہونی چاہیے’۔
جولائی کے اوائل میں حکومت نے میڈیا کی آزادی پر غیر محسوس انداز میں حملہ کیا تھا اور تنقیدی کوریج کو سنگین ‘غداری’ قرار دیا تھا۔
اسی طرح جولائی میں ہی اپوزیشن جماعت کی رہنما مریم نواز کی پریس کانفرنس نشر کرنے پر متعدد نجی چینلز کی نشریات کو بند کیا گیا تھا۔
کچھ عرصے میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن کے اعلان کے بعد ملک میں اختلاف رائے کے اظہار پر دباؤ کا سامنا ہے اور اس کے لیے جگہ سکٹرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے جبکہ روایتی میڈیا ہاوسز کو حکام کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے جن کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر خود ساختہ سنسرشپ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ترنول میں چورنگی نمبر 26 پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

ترنول میں چورنگی نمبر 26 پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

اسلام آباد: جاں بحق اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) محسن ظفر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے