کسی پر ذمے داری نہیں ڈال رہا جو ہماری ذمے داری ہے تسلیم کرتے ہیں

کسی پر ذمے داری نہیں ڈال رہا جو ہماری ذمے داری ہے تسلیم کرتے ہیں

کراچی: صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کا کہنا ہے کہ مختلف شاہراہوں سے پانی نکال دیا گیا ہے، سارے کاموں میں ڈی ایم سی اور کے ایم سی کا عملہ موجود تھا، بارش سے کوئی بڑی شاہراہ مکمل طور پر بند نہیں ہوئی

ہر بڑی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی جاری تھی، شاہراہ فیصل پر 3 مقامات پر پانی کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہوا، تمام اداروں نے اچھی کو آرڈینیشن کے ذریعے کام کیا۔ اس وقت ہمارا ٹارگٹ آبادیوں کا پانی نکالنا ہے، یوسف گوٹھ اور سعدی ٹاؤن گزشتہ بارشوں میں پورا ڈوب گیا تھا۔ ان دونوں علاقوں سے ابھی پانی نکالنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال پانی کو کنٹرول کیا گیا، آج صبح سویرے سعدی ٹاؤن میں پانی گیا ضرور ہے نقصان نہیں ہوا۔ پانی کے قدرتی بہاؤ کو آپ نہیں روک سکتے۔
سپر ہائی وے ایم نائن سے جو پانی کا فلو تھا اب وہ کم ہو گیا ہے، کراچی کی بہت ساری آبادیاں ہیں جہاں پانی کھڑا ہے۔ اب ان آبادیوں سے پانی نکالنے کا کام شروع کیا جائے گا۔ ڈی ایم سی مشینیں لگائے اور پانی نکالے۔
کسی پر ذمے داری نہیں ڈال رہا جو ہماری ذمے داری ہے تسلیم کرتے ہیں، 4 دن پہلے کمشنر آفس میں میٹنگ ہوئی وہاں میئر صاحب سے نالوں کی صفائی پر پوچھا۔ ہر ڈی ایم سی نے اپنے حدودمیں نالوں کا احوال بتایا۔ میئر صاحب باقائدہ تصاویر لے کر آئے کہ یہ نالے پہلے ایسے تھے اب صاف کر دیے گئے۔
ڑے نالوں کی صفائی کے ایم سی اور چھوٹے نالوں کی ذمے دار ڈی ایم سی ہے۔ کہتے ہیں نالوں کی صفائی کے پیسے نہیں، ہم پیسے دیتے ہیں۔ ہم نے گزشتہ سال 50 کروڑ روپے دیے تھے۔ ڈی ایم سی نے بتایا مالی وسائل کم تھے کچھ نالے صاف ہوئے کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

طیارہ حادثہ ، ایئرٹریفک کنٹرولر شامل تفتیش

کراچی: پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے، ڈیوٹی پر موجود …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے