امراض کی شناخت کرنے والا ایک نظام تیارکرلیا ہے جو روایتی ٹٰیکنالوجی سے بھی مؤثر

امراض کی شناخت کرنے والا ایک نظام تیارکرلیا ہے جو روایتی ٹٰیکنالوجی سے بھی مؤثر

کیرولائنا: ہم جانتے ہیں کہ پودے کے پتوں پر ننھے سوراخ ہوتے ہیں جہاں سے وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں

صرف یہی نہیں پودے طیران پذیرنامیاتی مرکبات یا وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز ( وی او سی) بھی خارج کرتے رہتے ہیں۔ ان کیمیکلز میں پودے کی صحت اور بیماری کا راز بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔
اگر پتے سے خارج ہونے والے کیمیائی مرکبات کو پڑھ لیا جائے تو اس طرح پودے کی صحت کا حال بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
نارتھ کیرولینا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق پودے سے خارج ہونے والی گیسیں ان کی صحت کا پتا دیتی ہیں۔ ان کی شدت معلوم کرکے کسان حضرات صرف چند منٹوں میں پودے کی بیماری کو جانچ سکتے ہیں۔ یہ آلہ کیمرہ لینس کے اوپر نصب ہوجاتا ہے۔
جانچ کے لیے پودے کے پتے کو ایک ٹیسٹ ٹیوب میں 15 منٹ کے لیے بند کیا جاتا ہے اور پتہ مکمل طور پر سیل بند ہوتا ہے۔ اس طرح پتے سے خارج گیس کو پمپ کے ذریعے ایک چھوٹی شیشی تک بھیجا جاتا ہے جہاں سینسر اور ریڈر لگا ہوتا ہے ۔ یہ سینسر اس پتے کی گیس میں موجود وی او سی کی شناخت کرتا ہے اور اس کے پیچھے ایک وسیع ڈیٹا بیس موجود ہوتا ہے جو فوری طور پر مرض کی شناخت کرتا ہے۔
ایک رنگ بدلنے والی پٹی لگی ہے جو رنگ کی تبدیلی سے پودے کی بیماری سے آگاہ کرتی ہے۔ اگلے مرحلے میں ایک ایپ یہ سارا کام کرے گی جس کی بدولت فوری طور پر پودے یا درخت کی بیماری کا اندازہ کرنا ممکن ہوگا۔
اسمارٹ فون کا کیمرہ پودے کی رنگت اور پتوں کے داغ کا جائزہ لے کر بھی مرض کی پیشگوئی کرسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں

کہیں آپ کے بچے بھی موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال تو نہیں کرتے؟

کہیں آپ کے بچے بھی موبائل یا ٹیبلٹ کا استعمال تو نہیں کرتے؟

ماہرین نے 2 سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین کو متنبہ کیا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے