عارف علوی نے ٹرائل کا سامنا کرنے اور تمام سماعت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

عارف علوی نے ٹرائل کا سامنا کرنے اور تمام سماعت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: ڈاکٹر عارف علوی نے جب صدر مملکت کا عہدہ سنبھالا تو ان کے وکیل نے ان سے صدارتی استثنیٰ حاصل کرنے کی تجویز دی تھی

صدر مملکت عارف علوی کے علاوہ پی ٹی آئی کے وکیل محمد علی بخاری نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر تعلیم شفقت محمود، خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی، تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری، جہانگیر خان ترین، اسد عمر اور دیگر کے لیے استثنیٰ کی درخواست کی تھی۔
وزیر اعظم عمران خان نے پہلے ہی ان کیسز میں مستقل استثنیٰ طلب کر رکھی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 248 (2) کے مطابق ‘صدر مملکت، گورنر کے عہدے پر ہوتے ہوئے ان کے خلاف کسی بھی عدالت میں مجرمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی’۔
صدر عارف علوی نے ٹرائل کا سامنا کرنے اور تمام سماعت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جاوید عباس نے درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے سماعت 10 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔
پولیس نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، ڈاکٹر عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم کے خلاف دھرنے کے دوران تشدد پر ورغلانے پر انسداد دہشت گردی کی دفعات لگائی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں

عوامی اجتماعات پر پابندی کے لیے دائر درخواست مسترد

عوامی اجتماعات پر پابندی کے لیے دائر درخواست مسترد

اسلام آباد: وفاقی درالحکومت میں عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کورونا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے