بڑھتی کشیدگی کے سائے میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے شروع کی گئی بات چیت

بڑھتی کشیدگی کے سائے میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے شروع کی گئی بات چیت

ایران:  ویانا میں اس ملاقات میں ایران کی جانب سے شرکت کرنے والے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار عباس اراخچی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے ایران کا تیل بردار جہاز پکڑنا سنہ 2015 کے معاہدے کی خلاف ورزی تھا جبکہ ایران نے برطانیہ کی اس تجویز کو بھی ‘اشتعال انگیز’ کہا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو یورپی مشن کی نگرانی میں وہاں سے گزارا جائے

عباس اراخچی کا کہنا تھا کہ ‘بات چیت تعمیری ماحول میں ہوئی۔ گفتگو اچھی رہی۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے ہر مسئلے کو حل کر لیا ہے، تاہم میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ بہت سی یقین دہانیاں دی گئی ہیں۔’
ایران کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ گذشتہ برس اس وقت ہونا شروع ہوا تھا جب امریکہ نے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر نئی پابندیوں کا اطلاق کیا تھا۔
گذشتہ ہفتوں میں ایران اور برطانیہ نے ایک دوسرے کا ایک، ایک تیل بردار بحری ٹینکر قبضے میں لے لیا تھا۔ اور اس کے باعث جنم لینے والی کشیدگی نے ایک بار پھر سنہ 2015 میں سائن کی گئی نیوکلئیر ڈیل کو بچانے کے حوالے سے دباؤ بڑھا دیا تھا۔
ایران نے رواں ماہ یورینیم افزودہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد سے تجاوز کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ایران کا کہنا تھا کہ یورینیم افزودگی کا مقصد ریکٹر کے لیے ایندھن پیدا کرنا ہے تاہم امریکہ اور یورپ کا ماننا ہے کہ ایسا جوہری پروگرام کی بڑھوتری کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔
ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جانے والی اس بات چیت کا مقصد حالیہ کشیدگی کو کم کرنا اور سنہ 2015 کی جوہری ڈیل کو مکمل ختم ہونے سے بچانا ہے۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے حکام نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وہ خلیج میں ہونے والے واقعات پر ‘سخت پریشان’ ہیں۔ ان کا کہنا تھا ‘یہ وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور وہ راستہ اختیار کرنے کا ہے جس پر چل پر کشیدگی میں اضافے کو روکا جا سکے اور بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا جا سکے۔’
ملاقات میں شامل چین کے نمائندے فو کونگ کا کہنا تھا کہ ‘تمام فریقین نے سنہ 2015 کے معاہدے کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی ہے اور۔۔۔۔ انھوں نے امریکہ کی جانب سے یک طرفہ طور پر پابندیاں عائد کرنے کی شدید مخالفت کی ہے۔’
رواں ماہ ایران اور برطانیہ کے مابین کشیدگی اس وقت بڑھی جب برطانوی بحریہ نے گریس ون نامی ایرانی تیل بردار ٹینکر کو جبرالٹر میں اپنے قبضے میں لیا۔ برطانیہ نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ایرانی ٹینکر یورپی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل شام لے جا رہا تھا۔
تاہم ایرانی حکام نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
اس واقعے کے کئی روز بعد ایران کے ایک برطانوی تیل بردار جہاز سٹینا ایمپرو کو اپنی تحویل میں یہ کہتے ہوئے لے لیا کہ جہاز نے ‘بین الاقوامی بحری اصولوں کی خلاف ورزی’ کی ہے۔
اتوار کے روز برطانیہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اپنے بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے دوسرا بحری جنگی جہاز بھیجا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

واشنگٹن: ٹرمپ نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر سیاہ فاموں کی جانب سے احتجاج اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے