ہائر ایجوکیشن کمیشن کا یہ اقدام اسٹیک ہولڈرز میں تشویش کی وجہ بنا ہوا ہے

ہائر ایجوکیشن کمیشن کا یہ اقدام اسٹیک ہولڈرز میں تشویش کی وجہ بنا ہوا ہے

لاہور: ایچ ای سی کی جانب سے تمام سرکاری اور نجی جامعات اور منسلک کالجز کو حتمی ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ 2 سالہ بی اے/بی ایس سی پروگرام کو ختم کردیں اور آئندہ تعلیمی سال سے ایسوسی ایٹ ڈگری (اے ڈی) پروگرامز شروع کریں

سرکاری و نجی جامعات کو یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ 2020 کے بعد ایم اے/ایم ایس سی پروگرامز کی آفر نہیں کرسکتیں۔
بی ایس پروگرامز آفر نہ کرنے والے ڈگری کالجز کے لیے ضروری ہے کہ نئے ایسوسی ایٹ ڈگری (اے ڈی) پروگرام کو شروع کرنے کے لیے اپنے موجودہ نظام کو تبدیل کریں لیکن اس کے لیے ابھی طریقہ کار کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔
ایسے کالجز میں تجویز کردہ پروگرام شروع کرنے کے لیے مبینہ طور پر مطلوبہ ضروریات اور اسٹاف نہیں ہے اور انہیں اپنی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کا یہ اقدام اسٹیک ہولڈرز میں تشویش کی وجہ بنا ہوا ہے کیونکہ یہ بڑی تعداد میں ان طلبا کو گریجویشن یا ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے سے محروم کردے گا جو بطور پرائیویٹ امیدوار شامل ہوتے ہیں۔
تعلیمی حلقے ایچ ایس سی کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اعتراض کر رہے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی صلاحیت کو بڑھائے بغیر نئے انداز پر منتقل ہونے کی ہدایت پر موثر طریقے سے عمل نہیں ہوسکے گا۔
انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ جامعات اور کالجز کے پاس یہ صلاحیت بھی نہیں تھی کہ وہ سیمسٹرز سسٹم کی ضروریات کو پورا کرسکیں اور ابھی بھی مختلف تعلیمی ادارے مطلوبہ ضروری صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے سیمسٹر سسٹم پر عملدرآمد کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسے فیصلے راتوں رات نہیں لیے جاتے اور نہ ہیں بنیادی ضروریات کو پورا کیے بغیر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تمام ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن کے وائس چانسلرز نے ایچ ایس سی کے چیئرمین طارق بانوری کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

ترنول میں چورنگی نمبر 26 پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

ترنول میں چورنگی نمبر 26 پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

اسلام آباد: جاں بحق اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) محسن ظفر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے