گرین ٹرینڈ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے میں 50 سے زائد افراد زخمی

گرین ٹرینڈ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے میں 50 سے زائد افراد زخمی

افغانستان: وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ گرین ٹرینڈ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے

نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ ‘حملہ آوروں کا نشانہ انتخابات میں نائب صدر کے امیدوار اور خفیہ ادارے کے سابق سربراہ امراللہ صالح تھے جنہیں عمارت سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ دیگر 85 شہریوں کو بھی اندر سے باحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
حملے کی فوری طور پر کسی بھی جانب سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم طالبان باغی اور داعش کابل میں سرگرم ہیں اور وہ ماضی میں بھی حملے کرچکے ہیں۔
حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا امراللہ صالح حملے میں محفوظ رہے۔
کابل کے پولیس سربراہ کے ترجمان فردوس فرامرز کا کہنا تھا کہ حملے کا آغاز گاڑی میں سوار خود کش دھماکے سے ہوا جس کے بعد حملہ آور عمارت میں گھس آئے اور سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔
ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے آئندہ انتخابات میں نائب صدر کے امیدوار امراللہ صالح کے دفتر پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتا ہے، پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے’۔
‘پاکستان افغانستان میں جمہوری عمل کی حمایت کرتا ہے، ملک میں مکمل امن کے لیے ہم افغان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے