کسی بھی جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے اظہارِ وجوہ کا نوٹس نہیں جاری کیا گیا تھا

کسی بھی جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے اظہارِ وجوہ کا نوٹس نہیں جاری کیا گیا تھا

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کی ہے کہ ان کے خلاف ثبوت مہیا کیے جائیں تا کہ اظہارِ وجوہ کے نوٹس کے جواب میں وہ اپنا جواب تیار کرلیں

اس کے ساتھ انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اس سے قبل ان کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں جمع کروائے گئے جوابات منظرِ عام پر لائے جائیں۔
اس پیش رفت سے باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو لکھے گئے نوٹس میں جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی معلومات عوام کو ہے لہٰذا ان کے جواب بھی کو بھی منظر عام پر لایا جانا چاہیے
اس کے ساتھ انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اس سے قبل ان کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں جمع کروائے گئے جوابات منظرِ عام پر لائے جائیں۔
اس پیش رفت سے باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو لکھے گئے نوٹس میں جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی معلومات عوام کو ہے لہٰذا ان کے جواب بھی کو بھی منظر عام پر لایا جانا چاہیے
14 جون کی سماعت کے بعد جسٹس قاضی فائر عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس کی نقول دونوں ججز کو فراہم کر کے ان سے الزامات پر جواب طب کیا تھا۔
تاہم اس وقت کسی بھی جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے اظہارِ وجوہ کا نوٹس نہیں جاری کیا گیا تھا۔
12 جولائی کو ہونے والی سماعت کے بعد ریفرنس کے حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اظہارِ وجوہ کے 2 نوٹسز جاری کیے گئے تھے جس میں ان پر برطانیہ میں اہلیہا ور بچوں کے نام پر جائیداد رکھنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
ان کو جاری کیا گا دوسرا شو کاز نوٹس صدر عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل کی جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا۔
صدر کو ارسال کیے گئے اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز نے استفسار کیا تھا کہ آیا وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے ٹیکس ریٹرنز میں اپنی بیویوں اور بچوں کی ملکیت میں موجود جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ اگر وزیراعظم نے خود ایسا نہیں کیا تھا تو انہیں صدر کو ریفرنس دائر کرنے کی تجویز نہیں دینی چاہیے تھی۔
اپنے خط میں انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا تھا کہ کونسل کی جانب سے کوئی نوٹس جاری ہونے سے قبل ہی منصفانہ سماعت کے اصولوں اور ججز کو حاصل آئینی تحفظ کی خلاف ورزی کی گئی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے تفتیش کرنے والے لازمی طور پر جانتے ہوں گے کہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کے دونوں بچوں نے لندن میں کام کیا اور حکومتی افراد کی جانب سے 3 جائیدادوں کی جس تفصیل کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا وہاں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جائیدادیں ان کے نام پر ہیں جو اس کے مالک ہیں اور ملکیت چھپانے کی کوشش کبھی نہیں کی گئی، جائیدادیں کسی ٹرسٹ کے ماتحت نہیں نہ ہی کبھی کوئی آف شور کمپنی قائم کی گئی۔
اس میں مزید کہا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پاکستان کے ٹیکس نظام کے تابعدار ہیں اور کبھی بھی ان کی جائیدادوں یا اہلیہ اور بچوں سے متعلق کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں

قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں صفر اعشاریہ 50 فیصد اضافہ کردیا

قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں صفر اعشاریہ 50 فیصد اضافہ کردیا

اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے