پاکستان امریکہ کی بیساکھی تو نہیں بن رہا….؟

 کیا پاکستان کو امریکہ کی دوستی سے آج تک کوئی فائدہ حاصل ہوا ہے؟

تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا دورہ امریکہ ختم ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ پر ملی جلی خبریں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کس کے مفاد میں ہیں؟ کیا پاکستان کو امریکہ کی دوستی سے آج تک کوئی فائدہ حاصل ہوا ہے؟

تاریخی شواہد اور واقعاتت یہی بتاتے ہیں کہ امریکہ سے جس کسی نے بھی دوستی کی وہ خسارے میں رہا ہے۔

یہی نظریہ پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے اور نہ صرف خسارہ بلکہ امریکی حمایت یافتہ دہشت گرد ی اور دہشت گرد گروہوں کی وجہ سے پاکستان نے بے پناہ نقصان برداشت کیا ہے جس کا اعتراف کبھی بھی امریکی انتظامیہ نے اس طرح سے نہیں کیا ہے جس طرح حق تھا۔اسی طرح دنیا کے کئی اور ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جنہوں نے امریکہ کو اپنا دوست مان لیا ہے یا اپنے لئے مسیحا قرار دیا وہ سب کے سب بد ترین نقصان کا شکار رہے۔ابھی تازہ ترین ہمارے عرب ممالک کے حالات کو ہی دیکھ لیجئے کہ امریکہ کی دوستی کے جھانسے میں آ کر تیل کی دولت امریکی سرکار کے لئے صرف کئے جا رہے ہیں۔
بہر حال جہاں تک پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی بات ہے تو واضح رہے کہ امریکہ نے تاریخ میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعد دمرتبہ پاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔وزیر اعظم پاکستان کا حالیہ دورہ تو پہلے ہی مشکوک ہو چکا ہے کیونکہ اگر انگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون میں نشر ہونے والی خبر کا مطالعہ کیا جائے تو ا س سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دورہ چند عرب ممالک اور بالخصوص پاکستان کے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے حکمرانوں کی خواہش پر منظم کیا گیا ہے اور اس دورہ کے لئے انہوں نے امریکہ کے ساتھ کافی لابنگ کی جس کے نتیجہ میں یہ دورہ عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوئے۔
آئیں اب بات کرتے ہیں اس دورہ میں ہونے والی امریکی صدر اور وزیر اعظم پاکستان کی ملاقات کی، جس کو حکومتی حلقے بہت ہی فخر کا باعث سمجھ رہے ہیں۔حالانکہ امریکی صدر دنیا کی تاریخ کا سب سے بد اخلا ق اور غیر ذمہ دار صدر ہیں جنہوں نے اپنی صدارت کے بعد سے اب تک متعدد ایسے کارنامے انجام دئیے ہیں جو نہ صرف امریکی صدر کی ذلت کا باعث بنے ہیں بلکہ امریکہ کے عوام کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ درا صل امریکی صدر سے وزیر اعظم پاکستان کی ملاقات کو اس طرح فخریہ اندازمیں پیش کیا جا رہاہے جیسا کہ کوئی عجوبہ سرانجام ہو اہے۔کیا پاکستان جیسے ایٹمی ملک کے وزیر اعظم کو امریکہ کے عام فہم احمق صدر سے ملاقات کو فخر کا باعث قرار دیناچاہئیے؟
در اصل امریکہ نے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ذریعہ پاکستان کے وزیر اعظم کے امریکی دورہ کو حتمی شکل اس لئے دی کیونکہ اگر گذشتہ چند سالوں کی سیاست کا مطالعہ کریں اورمغربی ایشیائی ممالک سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں رونما ہونے والے واقعات و حوادث کا بغور مشاہدہ کریں تو ایک بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ امریکہ اور اس کے عربی و غربی اتحادیوں کو ان خطوں میں اپنی پالیسیوں پر شدید ناکامی کا سامنا ہے۔ایک طرف امریکہ اپنی طاقت کا بھرم قائم رکھنے کے لئے ایران جیسے ممالک کے خلاف بڑے بڑے دعوے کرتا ہے لیکن ایک ہفتہ کے اندر ہی ان دعووں میں کئی کئی تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں اور امریکہ اس قابل ہی نہیں رہتا ہے کہ اپنے اعلانات پر عمل کرے یا کروا سکے۔امریکہ کو ایران، شمالی کوریا اور شام سمیت لبنان میں موجود حزب اللہ اور فلسطین کے عوام اور مزاحمتی تحریک حماس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان جیسا بڑا اسلامی اور ایٹمی طاقت ملک امریکی صدر کے ساتھ وزیر اعظم کی ملاقات کو پاکستان کے لئے فخر محسوس کر رہاہے؟ کیا معنی رکھتا ہے؟۔
جیسا کہ کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں فلسطین سے شام، لبنان، عراق، افغانستان اور خطے کے دیگر مقامات پر امریکی سیاست اور پالیسیاں ناکامی کا شکار ہو چکی ہیں اور پھر اب حالیہ دنوں بحرین میں امریکی سربراہی میں خطے کے لئے بالخصوص فلسطین کے سودے کے لئے پیش کردہ صدی کی ڈیل میں ناکامی کا شکار ہو چکی ہے تو امریکہ مکمل طور پر خطے کی سیاست سے باہر نکلتا چلا جا رہاہے۔خاص طور پر فلسطینیوں کی مزاحمت، شام میں مزاحمتی قوتوں کے ہاتھوں امریکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع ہونا او ر پھر افغانستان میں امریکی شکست نے امریکہ کو مغربی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کی سیاست سے کنارہ کش بلکہ باہر اور تنہا ہی کر دیا ہے۔
خطے کی موجودہ صورتحال میں امریکی سیاست کی ناکامیوں نے امریکہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اب بیساکھیوں کی تلاش کرے۔ایشیائی ممالک میں پاکستان ہی ایک ایسا بڑا اور طاقتور اسلامی ملک ہے جو امریکہ کے لئے ایک مضبوط بیساکھی کا کردار ادا کر سکتا ہے اور اس کام کے لئے امریکہ نے جہاں عرب اتحادیوں کی مددلی ہے وہاں براہ راست خود بھی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے اہم ترین مسئلہ، یعنی کشمیر کی حمایت میں بات کی جائے لیکن یہاں یہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہئیے کہ امریکہ جسے سپر پاور ہونے کا زعم تھا اب اس کی سپر پاور رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہے اور اب امریکہ اپنے وجود کی بقاء کے لئے جہاں عرب بیساکھیوں کا سہارا لے رہا ہے وہاں ساتھ ساتھ عرب اتحادیوں کے دوست ممالک بالخصوص پاکستان جیسے عظیم و طاقتور ممالک کو بھی دھوکہ دہی کے ذریعہ اپنے جال میں پھانسنے کی تگ ودو کر رہا ہے۔
خلاصہ یہی ہے کہ امریکہ کے ساتھ دوستی کا مطلب اپنا نقصان اور بربادی ہے جن جن ممالک نے امریکہ سے دوستی نہیں کی ان میں خود لاطینی امریکہ کے کئی ممالک شامل ہیں جو پاکستان تو کیا بلکہ عرب ممالک سے بھی بہت چھوٹے ممالک ہیں جبکہ پاکستان تو پھر ایک بڑا ملک ہے۔لہذا حکومت وقت کو یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں ہو سکتا اور خاص طور پر امریکہ جو ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل رہا ہے وہ کسی طرح بھی پاکستان کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔پاکستان کے عوام کبھی بھی اپنے وطن عزیز کو امریکی بیساکھی نہیں بننے دیں گے۔امریکی ناپاک عزائم میں ایک ناپاک منصوبہ پاکستان کی مضبوط افواج کو بھی کمزور کرنا ہے اس لئے اندرونی و بیرونی سطح پر امریکہ کئی ایک ایسے گروہوں کی براہ راست مدد کرر ہا ہے جو افواج پاکستان کو کمزور کرنے اور ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔بس اب سوچنا یہ ہے کہ کہیں پاکستان امریکہ کے لئے بیساکھی کا کردار تو ادا نہیں کرنے جا رہا یا یہ کہ پاکستان کے نام نہاد عرب دوست پاکستان کو امریکہ کے لئے بیساکھی تو نہیں بنا رہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

وزیر خارجہ پاکستان اور اسرائیل سے یارانہ

وزیر خارجہ کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا بیان امریکی و برطانوی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے