الاخوان المسلمین کی قیادت کی مالی بد عنوانی سامنے آگئی

الاخوان المسلمین کی قیادت کی مالی بد عنوانی سامنے آگئی

قاہرہ: الاخوان المسلمین تنظیم کی ترکی فرار ہونے والی قیادت کے بیچ شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ان اختلافات کی وجہ رقوم کا غبن اور مالی اسکینڈلز ہیں۔اس سے قبل ترکی فرار ہونے والے ایک اخوانی لیڈر امیر بسام کی ایک آڈیو ٹیپ اِفشا ہو کر منظر عام پر آئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق مبینہ ٹیپ میں بسام تنظیم کے ایک دوسرے رہ نما کے ساتھ ترکی میں الاخوان کی رقوم اور عطیات میں غبن اور فضول خرچی پر بات کر رہے ہیں۔ بسام نے تنظیم کے سیکریٹری جنرل محمود حسین کے علاوہ دیگر لیڈروں محمد البحیری اور ابراہیم منیر پر اس فعل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

اس سلسلے میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق الاخوان تنظیم کو اپنے ایک لیڈر کی جانب سے عطیے کے طور پر بیس لاکھ ڈالر کی رقم ملی تھی۔ اس رقم کو ترکی میں مقیم الاخوان کے ارکان پر خرچ ہونا تھا اور ان کے واسطے رہائش خریدی جانی تھی۔ تاہم تنظیم کی قیادت نے خود ہی اس رقم کو ہتھیا لیا۔تنظیم کے چار لیڈروں نے اس رقم کو آپس میں بانٹ لیا۔ انہوں نے استنبول میں 12 لاکھ ڈالر کی فرنشڈ رہائشی عمارت خرید اور اس کی ملکیت اپنے نام منتقل کر لی۔

اسی طرح ان افراد نے 7 لاکھ ڈالر کی رقم آپس میں تقسیم کر لی۔ بقیہ ایک لاکھ ڈالر پر تنظیم کے سکریٹری محمود حسین نے قبضہ جما لیا اور اپنے بیٹے کے لیے بی ایم ڈبلیو گاڑی خرید لی۔ ان تمام امور کا انکشاف تنظیم کے لیڈر کی اِفشا ہونے والی آڈیو ٹیپ میں ہوا۔

اس سلسلے میں اسلامی سیاسی تحریکوں کے امور کے ماہر عمرو فاروق نے عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیرون ملک الاخوان کے مالی معاملات میں کھلی خلاف ورزیوں سے انکشاف ہوتا ہے کہ ترکی میں تنظیم کے اندرونی اختلافات اور انقسام کا دائرہ کتنا زیادہ وسیع ہے۔ فاروق کے مطابق الاخوان کے اندر مالی اسکینڈلوں پر طویل عرصے سے پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصر یا اس کے بیرون تنظیم کی مالی رقوم کے خرچ پر کسی بھی قسم کی نگرانی یا احتساب کا کوئی نظام موجود نہیں۔

فاروق کے مطابق آئندہ مرحلے میں ترکی، برطانیہ اور ملائیشیا میں الاخوان تنظیم کے اندر اور اس کی قیادت کے حوالے سے مالی بدعنوانی کا معاملہ اہم ترین اہمیت کے امور میں سے ہو گا۔ مصر میں تنظیم کے رہ نما بیورو کی اکثر قیادت کی گرفتاری کے بعد تنظیم کے عناصر کو اس بات کے بہت سے مواقع مل گئے کہ وہ مصر میں اور مصر سے باہر چھوٹی بڑی مالی رقوم، کمپنیوں اور مختلف منصوبوں پر قبضہ جما لیں۔فاروق نے واضح کیا کہ الاخوان تنظیم کے اندر مالی اسکینڈلوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے تاہم ان پر پردہ ڈال گیا تھا۔

اسی طرح فاروق نے یہ بھی باور کرایا کہ الاخوان کے متعدد رہ نماؤں اور ارکان کے مصر سے باہر فرار ہو کر ترکی میں سکونت اختیار کرنے سے تنظیم میں مالی بے قاعدگیوں کا شرم ناک پہلو سامنے آیا۔ اس دوران بعض رہ نماؤں اور ان کے اہل خانہ کے پر تعیش طرز زندگی نے نوجوان کارکنان کو نوٹس لینے پر مجبور کر دیا۔ ان رہ نماؤں کی جانب سے مہنگے گھروں اور قیمتی گاڑیوں کی خرید دیکھنے میں آئی۔

دوسری طرف نوجوان کارکنان چھوٹے سے اپارٹمنٹس میں رہنے پر مجبور کر دیے گئے اور انہیں ملنے والا فی کس ماہانہ مشاہرہ 80 ڈالر سے زیادہ نہ تھا۔فاروق کے مطابق ترکی میں الاخوان تنظیم کی قیادت پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے یورپی یونین کی جانب سے تنظیم کے نوجوانوں کے لیے پیش کی گئی مالی رقوم کو بھی ہتھیا لیا۔ یہ رقوم ان نوجوانوں کو ترکی میں پناہ گزینوں کی فہرست میں شامل ہونے کے سبب بطور عطیہ دی گئی۔

ایران ایک بہانہ ، امریکی ہتھیاروں کیلئے سعودی اچھی منڈی

یہ بھی پڑھیں

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

واشنگٹن: ٹرمپ نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر سیاہ فاموں کی جانب سے احتجاج اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے