بھارتی جیل میں 23 سال سے قید 4 کشمیری جرم ثابت نہ ہونے پر رہا

بھارتی جیل میں 23 سال سے قید 4 کشمیری جرم ثابت نہ ہونے پر رہا

نئی دہلی:

بھارت کی عدالت نے جیل میں 23 سال سے قید 4 کشمیریوں کو جرم ثابت نہ ہونے کی بنا پر رہا کردیا۔

بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی کئی درد ناک اور بھیانک داستانیں رقم کی ہیں، کبھی معصوم اور نہتے افراد کو گولیوں سے نشانا بنایا ہے تو کبھی پیلٹ گن کا استعمال کرکے زندگی میں اندھیرا کردیا۔ ایسا ہی کچھ 4 کشمیریوں کے ساتھ ہوا جنہوں نے زندگی کے 23 سال بغیر کسی جرم کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دیے۔

بھارتی ریاست راجھستان کی عدالت نے جھوٹے الزام میں 23 سال تک قید کاٹنے والے 4 کشمیریوں کو رہا کردیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ چاروں افراد کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ رہائی پانے والوں میں لطیف احمد واجا، علی بھٹ، مرزا نثار، عبدالگونی اور رئیس بیگ شامل ہیں۔

رہائی پانے والا علی محمد جب اپنے گھر واپس پہنچا تو اپنے والدین کی قبروں  سے لپٹ لپٹ کر روتا رہا۔ دوسری جانب حریت رہنماؤں نے رہا ہونے والے کشمیریوں کو خوش آمدید کہا ہے۔

برازیل میں مسلح افراد 4 کروڑ ڈالر مالیت کا سونا اور قیمتی دھاتیں لے اڑے

یہ بھی پڑھیں

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

واشنگٹن: ٹرمپ نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر سیاہ فاموں کی جانب سے احتجاج اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے