بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت پر مودی حکومت سے جواب طلب

بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت پر مودی حکومت سے جواب طلب

نئی دلی: بھارتی سپریم کورٹ نے ہجوم کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت پر حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سمیت 10 ریاستوں کو بھی اس حوالے سے نوٹس جاری کیے ہیں جن میں حکومتوں سے ہجوم کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت کرنے والے بینچ نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو بھی نوٹس جاری کیا ہے جب کہ 10 ریاستوں میں اتر پردیش، آندھرا پردیش، دلی اور راجستھان کی حکومتوں سے بھی جواب مانگے گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کہنا ہےکہ سپریم کورٹ نے یہ نوٹس شوبز سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شخصیات کی جانب سے وزیراعظم مودی کو لکھے گئے کھلے خط کے بعد لیا۔

بھارتی وزیراعظم کے نام لکھے گئے کھلے خط میں مسلمانوں سمیت دلت اور دیگر اقلیتوں کا قتل عام روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مودی کے نام لکھے گئے خط میں قتل کے واقعات کو ایک مخصوص طبقے پر ظلم اور غلط بیانیہ قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں گائے کے تحفظ اور اس کا گوشت بیچنے کے الزامات کئی مسلمانوں کو قتل کیا جاچکا ہےکہ اس کے علاوہ بعض ریاستوں میں نچلی دِلت ذات کے لوگوں کو بھی بدترین تشدد کا نشانے بنانے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال ایک فیصلہ جاری کیا تھا جس میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد کی روک تھام کے بڑھتے واقعات پر قابو پانے کے لیے چند اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور عدالت نے تشدد کی روک تھام کے حوالے سے گیارہ نکات پر عملدرآمد کا بھی حکم دیا تھا۔

چین کا مسئلہ کشمیر پر امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم

یہ بھی پڑھیں

برطانیہ میں پندرہ جون سے دکانیں کھل جائیں گی

لندن: برطانوی حکومت نے ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا وزیراعظم بورس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے