حکومتی وفد مولانا فضل الرحمان کو منانے میں ناکام

حکومتی وفد مولانا فضل الرحمان کو منانے میں ناکام

اسلام آباد: بلوچستان کے سینیٹرز بھی موجود تھے ملاقات میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور دیگر سیاسی امور پر بات چیت ہوئی

ملاقات کے بعد شبلی فراز نے کہا کہ سینیٹ کو ہمیشہ سے مقدس پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، کوشش کریں گے سینیٹ کا وقار متاثر نہ ہو
ہم نے اپنے خیالات مولانا فضل الرحمان کے سامنے پیش کیے، مولانا فضل الرحمان نے شفقت سے ہماری بات سنی، مولانا فضل الرحمان اگر ہماری طرف سے اپوزیشن سے بات کرتے ہیں تو اعتراض نہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ سینیٹ کی ڈیڑھ سالہ مدت گزر چکی ہے، ڈیڑھ سال رہ گیا، ایسا قدم اٹھانا چاہیے جس سے بہتری کی طرف جائیں۔ چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر مولانا سے ملاقات کی، مولانا فضل الرحمان کے سامنے اپنی درخواست رکھی ہے، اپوزیشن کے اقدام سے شاید اچھے نتائج نہ نکلیں، صادق سنجرانی کا تعلق ہماری جماعت سے ہے، ہم انفرادی حوالے سے اس معاملے کو نہیں دیکھ رہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا فیصلہ اپوزیشن نے متفقہ طور پر کیا، چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آ چکی ہے، کیسے ممکن ہے اس مرحلے پر تحریک واپس لے لیں۔

یہ بھی پڑھیں

عمران خان کا دعوی تھا کہ اسٹیل ملز کو وہ چلا کر دکھائیں گے

عمران خان کا دعوی تھا کہ اسٹیل ملز کو وہ چلا کر دکھائیں گے

اسلام آباد: چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس ہوا تو اپوزیشن کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے