اسلام قبول کرنے والی روسی ملکہ حسن کو ملائشین بادشاہ نے طلاق دے دی

اسلام قبول کرنے والی روسی ملکہ حسن کو ملائشین بادشاہ نے طلاق دے دی

کوالالمپور: ملائیشیا کے سابق بادشاہ سلطان محمد پنجم نےاپنی اہلیہ کو طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ برس نومبر میں روسی ماڈل کے اسلام قبول کرنے کے بعد اُسے اپنے نکاح میں لے کر بادشاہت ٹھکرانے والے سلطان محمد پنجم نے علیحدگی کا قانونی نوٹس اہلیہ کو ارسال کردیا۔

ملائشیا کی میڈیا کے مطابق 50 سالہ سلطان محمد پنجم نے اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے دو ماہ بعد 27 سالہ سابق مس ماسکو اوکسانا ووئی ڈینا سے علیحدگی کا فیصلہ کیا، یاد رہے کہ روسی ماڈل نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام ریحانہ رکھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سلطان محمد پنجم اور ریحانہ کے درمیان کافی عرصے سے شدید اختلافات تھے جسے شاہی خاندان نے خفیہ رکھنے کی کوشش کی البتہ اب وہ طلاق کے فیصلے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق بادشاہ نے علیحدگی کے لیے شرعی کورٹ سے رجوع کیا جس نے طلاق کی منظوری دی تو 2 گواہوں کی موجودگی میں اسلامی طریقۂ کار کے مطابق سطان نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور پھر اسے قانونی بنانے کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا۔

اخباری رپورٹ کے مطابق طلاق کے لیے گزشتہ ماہ 22 جون کو عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس پر جج نے دونوں فریقین کو یکم جولائی کو طلب کیا تھا تاکہ فیصلہ سنایا جائے، ریحانہ روس میں موجودگی کی وجہ سے پیشی پر نہ آسکیں اور انہوں نے اپنے وکیلوں کو بھیجا جس پر جج نے حتمی طلاق کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

میڈیا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریحانہ اب ماسکو منتقل ہوچکی ہیں اور انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ وہ اب روس میں ہی قیام کریں گی۔

دوسری جانب سلطان محمد پنجم کی اہلیہ نے طلاق کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سنگاپور میں نہیں بلکہ روس میں ہیں اور انہیں تاحال کوئی قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

جاپان کے فوجی خلیج فارس میں تعینات نہیں ہوں گے، ٹوکیو

یہ بھی پڑھیں

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

واشنگٹن: ٹرمپ نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر سیاہ فاموں کی جانب سے احتجاج اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے