امریکا کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں دونوں ایک صفحے پر ہیں

وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں نہ تو امداد مانگی، نہ ہی امداد چاہتے ہیں

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے امریکا کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیس سے خطاب کرتے ہوئے کیا

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے امریکا کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، پہلی بار پاکستانی حکومت، سیکیورٹی ادارے، امریکی انتظامیہ ایک صفحے پر ہیں، دونوں ملکوں کا افغان مسئلے پر یکساں مؤقف ہے، افغان مسئلے کا کوئی آسان حل ممکن نہیں ہم مل کر ہی کوئی  پائیدار حل نکال سکتے ہیں، کشمیر کے مسئلے کا حل وہ نہیں جو پاکستانی چاہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ہونا چاہئے ، جس کیلئے پاکستان اور بھارت مشرف دور میں بہت قریب آچکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ80کی دہائی کے بعد حکمرانوں کی کرپشن ملک کو نیچے لے گئی، ہم اقتدار میں آئے تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔پاکستان کے حکمران اقتدار میں آنے کے بعد خود کو فائدہ دینے کا ہی سوچتے تھے، کرپشن کےذریعے حکمران خود کو فائدہ پہنچانے کے چکر میں رہتے ہیں،80کی دہائی کے بعد حکمرانوں کی کرپشن ملک کو نیچے لے گئی، ہمارے سیاستدان حکومت میں آکر پیسہ بنانے کو جائز سمجھنے لگتے تھے، اقتدار میں آئے تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔

پاکستان نے60کی دہائی میں تیزی سےترقی کی،70کی دہائی کے بعد پاکستان کےحالات خراب ہونا شروع ہوگئے، میں نے15سال تک کرپشن کیخلاف جدوجہد کی،15سال بعدلوگوں میں شعورپیداکرنےمیں کامیابی ملی، اقتدارمیں آنے کے بعد کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، پہلا مسئلہ مشکل اقتصادی صورتحال تھی، پاکستان کو اس وقت بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے، ادارے مستحکم ہوں تو کالے دھن کو سفید نہیں کیا جاسکتا، اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں کچھ وقت لگے گا، ہماری حکومت کی ترجیح تمام ہمسائیوں سے اچھے تعلقات ہے، خطے کی ترقی کیلئے امن ناگزیر ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں آزاد ملک میں پیدا ہونیوالی نسل میں سے ہوں، ہمارے والدین نوآبادیاتی نظام کے دور میں پیدا ہوئےتھے، کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کینسراسپتال بنایا، بعد میں احساس ہواصرف سماجی کاموں سے ملکی حالت نہیں بدلی جاسکتی، ملکی حالت بدلنے کیلئے سیاست میں آنا ضروری ہے، ہمارے ملک میں تنزلی کی بنیادی وجہ بدعنوانی ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا دوسرا مسئلہ کرپٹ افراد کی منی لانڈرنگ کا ہے، منی لانڈرنگ کی وجہ سے ملک سے پیسہ باہر چلاجاتاہے، غربت اور ناخواندگی کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی منی لانڈرنگ ہے۔ منی لانڈرنگ کے ذریعے حکمرانوں نے اپنے ادارے تباہ کردیئے، اداروں کو اس لئے تباہ کیا گیا تاکہ ان کی کرپشن پر کوئی ہاتھ نہ ڈالے، آج سب سے بڑا چیلنج اداروں کو دوبارہ سے فعال بنانا ہے، کئی اداروں کو ہم نے بہتر بنایا مگر یہ طویل مدتی کام ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی میڈیا برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد ہے،  ذرا سوچئے کہ وزیراعظم کے حوالے سے ٹی وی یہ کہے کہ اسے طلاق ہونے والی ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی ہے؟ جیسا پاکستان کا میڈیا ہے ویسا کہیں کا بھی نہیں ہے، امریکی سفیر نے بھی ملاقات میں کہا میڈیا آؤٹ آف کنٹرول ہے، آئی ایم ایف کے حوالے سے غلط خبریں چلائی گئیں کہ روپے کی قدرگرنے والی ہے،ہم میڈیا پر نظرضرور رکھیں گے مگر سنسر شپ نہیں کرینگے۔

اس کے علاوہ این جی اوز کی گائیڈ لائن پر بھی کام ہورہا ہے، ہمیں این جی اوز کے حوالے سے کافی مسائل کا سامنا ہے، اس سلسلے میں وزیر خارجہ بات چیت کررہے ہیں، شکیل آفریدی معاملے کے بعد انتہا پسندوں نے این جی اوز کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا، پاکستان میں کئی پولیو ورکرز کو قتل کیا گیا، تین جرمن این جی اوز پاکستان سےگئیں مگر کلیئرنس کےبعدواپس آئیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات چاہتا ہے، حکومت میں آکرسب سے پہلے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا، پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بحالی میں کشمیر سب سے بڑا مسئلہ ہے، دونوں ممالک مشترکہ طور پر غربت کے بڑے مسئلے سے دوچار ہیں، بھارت کے علاوہ بہتر تعلقات کیلئے افغان صدر اشرف غنی کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دی، آج ہر جگہ کہاجارہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں بات چیت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکا سپر پاور ہے ہم اس سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں، صدر ٹرمپ کی دعوت پر جب امریکا آرہا تھا تو تھوڑی سی پریشانی تھی، ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے مجھے زندگی میں کبھی اتنے مشورے نہیں ملے مجھ سے کہا گیا کہ آپ اس طرح بات کریں گے مختلف باتیں کہی گئیں، صدر ٹرمپ سے مل کر خوشگوار احساس ہوا، انہوں نے مجھ سمیت وفد سے خوشگوار انداز میں ملاقات کی جیسےامریکی صدرنےہماری مہمان نوازی کی وہ قابل تعریف ہے۔

عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہم نے70ہزار جانیں قربان کی ہیں،70ہزار قربانیوں کے باوجود پاکستان اور امریکا میں بداعتمادی کی فضا برقرار رہی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اس سے بڑی قربانیاں نہیں ہوسکتیں،  پاکستانی عوام سمجھتے رہے کہ وہ امریکی جنگ لڑرہے ہیں، افغان جنگ کی ہم نے بہت بھاری قیمت ادا کی، اتنی قربانیوں کے بعد بھی امریکا کا خیال تھا کہ ہم کام نہیں کررہے، حیران ہوں کی امریکا کی اہم شخصیات کو پاکستان اور افغانستان کے قبائلی علاقوں کا درست اندازہ نہیں ہے، امید کرتا ہوں کہ طالبان اور امریکا کے درمیان بات چیت سے حل نکلے گا، افغان مسئلے کے پائیدار حل کیلئے مزید وقت درکار ہوگا۔

سیاسی محاذ پر مجھے محسوس ہوا کہ میں سیاسی جماعتوں کی بجائے مافیا سے لڑرہا ہوں، سپریم کورٹ بھی  سابق حکمران کو سسلین مافیاسے تشبیہ دے چکی ہے، مجھے پاکستانی نوجوانوں کی بھرپورحمایت حاصل ہے، حکومت میں آنےکے بعد ہم نے سب سے پہلے مافیاز پر ہاتھ ڈالا،10ماہ کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں ہم ملکی  معیشت مستحکم کرسکتے ہیں، فیصلہ کیا کہ ملک لوٹنے والوں سے جو رقم ملی وہ غریبوں پر خرچ ہوگی، ملک سے  غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، ہماری حکومت ملک میں صنعتوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے،.

اس  کے علاوہ ہم دینی مدارس کی اصلاحات پر کام کر رہے ہیں، دینی مدارس کے نصاب میں جدید عصری علوم شامل  کررہے ہیں، پاکستان میں ٹیکس دینے کی شرح بہت کم ہے، ٹیکس نظام بہتر کرکے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کررہے ہیں،2008میں پاکستان کا کل قرضہ6ہزار ارب روپے تھا، صرف10سال میں سابقہ حکمرانوں  نے30ہزار ارب تک پہنچایا، گزشتہ سال ملک کی مجموعی آمدن کا نصف قرضوں پر سود کی ادائیگی میں چلا گیا۔

پاکستان،امریکا کے تعلقات کبھی کثیر الجہتی نہیں رہے، افغان جہاد کےخاتمے کے بعد امریکا خطےسے چلا گیا، پاکستان کو امریکا کی جانب سے پریسلر پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، نائن الیون کے بعد ایک بار پھرپاکستان امریکا قریب آئے، میں نے امریکی جنگ میں شمولیت کی مخالفت کی تھی، نائن الیون سے پہلے قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی،2004میں پہلی بار پاک فوج کو قبائلی علاقوں میں آپریشن کیلئے بھیجا گیا، اے پی ایس سانحے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر دستخط کئے، ہماری پہلی حکومت ہے جو ملک میں مسلح گروہوں کیخلاف عملی اقدامات کررہی ہے، پاکستان ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو یہ خدشہ رہا کہ مغربی سرحد پربھی چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں، پاکستان میں سیاسی وعسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں، فوجی قیادت منتخب جمہوری قیادت کے ساتھ کھڑی ہے، افغان طالبان کی قیادت چند ماہ پہلے مجھ سےملنا چاہ رہی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیں

غیر ضروری اقدام سے اربوں ڈالرکے منصوبوں پر عملدرآمد میں الجھاؤ پیدا ہو گا

غیر ضروری اقدام سے اربوں ڈالرکے منصوبوں پر عملدرآمد میں الجھاؤ پیدا ہو گا

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی نے سی پیک اتھارٹی کے قیام کی حکومتی تجویزکی مخالف کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے