بجلی کا بریک ڈاؤن تقریباً رات 11 بجے ہوا

بجلی کا بریک ڈاؤن تقریباً رات 11 بجے ہوا

کراچی: الیکٹرک (کے الیکٹرک) کے دعووں کی قلعی اس وقت کھل گئی جب شہر میں بوندا باندی شروع ہوتے ہی متعدد فیڈرز ٹرمپ کرگئے اور بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی

بریک ڈاؤن تقریباً رات 11 بجے ہوا، جس سے گارڈن، صدر، گلشن اقبال، گلستان جوہر، یونیورسٹی روڈ، صفورا گوٹھ، سعدی ٹاؤن، لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل، ایئرپورٹ، کلفٹن، ڈیفنس، فیڈرل بی ایریا، رضویہ، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، گلشن معمار، کھارادر سمیت متعدد علاقے تاریکی میں ڈوب گئے، تاہم کچھ علاقوں میں بجلی بحال ہوگئی جبکہ اب بھی متعدد علاقے بجلی سے محروم
بجلی کی بندش اور گرمی کے باعث شہریوں کو رات جاگ کر گزارنا پڑی جبکہ اسکول جانے والے بچوں اور دفاتر جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں کے مطابق بارش کے شروع ہوتے ہی ان کے علاقوں میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہوگیا، جس سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کے الیکٹرک کو شکایات کرنے کے باوجود بھی بجلی بحال نہیں ہوئی۔
کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بارش کے باعث متاثرہ فیڈرز بحال کیے جاچکے ہیں جبکہ حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ علاقوں میں بجلی عارضی طور پر بند کی گئی۔
ے الیکٹرک کی جانب سے کہا گیا کہ ہماری ٹیمیں بارش سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کا کام کر رہی ہیں اور ہم تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کراچی میں بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا ہو بلکہ ایک سال کے دوران شہر میں کئی مرتبہ بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن ہوچکے ہیں۔
اگرچہ کے الیکٹرک کی جانب سے متعدد مرتبہ نظام میں بہتری کے دعوے تو کیے گئے لیکن حقیقت میں ایسا نظر نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں اینٹی بائیوٹک یعنی بیکٹیریا کُش ادویات کا ٹائیفائیڈ پر اثر نہ ہونے کے برابر ہے

پاکستان میں اینٹی بائیوٹک یعنی بیکٹیریا کُش ادویات کا ٹائیفائیڈ پر اثر نہ ہونے کے برابر ہے

سندھ: پاکستان میں اینٹی بائیوٹک یعنی بیکٹیریا کُش ادویات کا ٹائیفائیڈ پر اثر نہ ہونے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے