جامعہ کراچی میں نئی اورجدید ٹیلی اسکوپ کی تنصیب کے ساتھ رسدگاہ فعال

جامعہ کراچی میں نئی اورجدید ٹیلی اسکوپ کی تنصیب کے ساتھ رسدگاہ فعال

کراچی: اس حوالے سے انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین ڈاکٹرجاوید اقبال کاکہنا تھاکہ پرانی ٹیلی اسکوپ نصب توکردی گئی ہے تاہم لینس لگاکردیکھا جائے گا کہ وہ’’ ورکنگ کنڈیشن‘‘ میں ہے یا نہیں ان کا کہنا تھاکہ محض پرانی ٹیلی اسکوپ کے لینس کو استعمال کرکے نئی ٹیلی اسکوپ بنائی جاسکتی ہے

ایک خاص قسم کالینس ہے ابھی اس پر سوچ بچارکررہے ہیں یہ ایک ایجاد ہوتی۔ ان کاکہناتھاکہ سیکیورٹی کے مسائل ہیں پرانی ٹیلی اسکوپ ’’گنبد‘‘ سے باہر نصب ہے اگر اس کے لینس لگاکرچھوڑدیے گئے توچوری ہونے کابھی خدشہ ہوتاہے، یادرہے کہ پرانی ٹیلی اسکوپ معروف جرمن کمپنی Carl Zeiss کی پروڈکٹ تھی اس کمپنی کے لینس آج بھی دنیاکے مہنگے ترین لینسز میں شمار ہوتے ہیں یہ ٹیلی اسکوپ بھی جامعہ کراچی کو60کی دہائی میں تحفے میں دی گئی تھی۔
جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلانیٹری آسٹروفزکس کے چیئرمین ڈاکٹرجاوید اقبال کے مطابق رسدگاہ کی تیاری پر60 لاکھ (6 ملین) روپے کی لاگت آئی ہے یہ اخراجات سپارکوکی جانب سے کیے گئے ہیں
16 انچ کے لینس پر مشتمل کمپیوٹرائزڈ ٹیلی اسکوپ meade نامی کمپنی کی ہے جو نہ صرف بیک وقت 65 ہزارفلکیاتی austronical object کو محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ ٹیلی اسکوپ میں موجود ’’گوٹوٹیکنالوجی‘‘ کے ذریعے وہ متعلقہ austronical object کو فوری فوکس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلانیٹری آسٹروفزکس کی رسدگاہ میں نئی ٹیلی اسکوپ کی تنصیب کے حوالے سے باقاعدہ تقریب آج کی شام منعقد کی جائے گی جس میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرخالد عراقی کے ساتھ ساتھ سپارکوکے افسران اور ماہرین فلکیات اور سائنسدان شرکت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

قائم علی شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) رہنما کی ضمانت 29 اگست تک کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے