امریکا اور کینیڈا میں شدید گرمی کی لہر

امریکا اور کینیڈا میں شدید گرمی کی لہر

امریکا اور کینیڈا میں ہیٹ ویو کے باعث شدید گرمی پڑرہی ہے جو آئندہ ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی ماہرین موسمیات کا کہناہے کہ شدید گرمی کی لہر امریکا کے بیشتر حصے کو متاثر کرے گی اور ہفتے کے اختتام تک اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

موسمیات کے ماہرین کے مطابق نیویارک، واشنگٹن، بوسٹن اور وسط مغربی خطے میں ہیٹ ویو کے باعث 20 کروڑ لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جب کہ بعض مقامات پر پارہ 38 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی بڑھنے کا امکان ہے جس کے سبب کینیڈا کے علاقے بھی گرمی کی زد میں آئیں گے۔

ماہرین کا کہناہےکہ گرمی کی شدید لہر کی وجہ حالیہ برسوں میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں جس کی وجہ سے رواں برس ماہِ جون گرم ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق رواں ماہ کے آغاز پر امریکی ریاست الاسکا اور قطب شمالی کے کچھ حصوں میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ موسمیات کا کہناہےکہ مشرقی ساحل کے بیشتر علاقوں میں پارہ مزید بڑھ رہا ہے جس کے باعث شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نیویارک کے میئر نے شہر میں شدید گرمی کے باعث مقامی ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔

اس کے علاوہ نیویارک کے میئر نے شہر میں 500 کولنگ سینٹرز کھولنے کا بھی اعلان کیا۔

دوسری جانب کینیڈا کے بھی بیشتر علاقوں میں ہیٹ ویو کی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹورنٹو میں جمعہ اور ہفتے کو درجہ حرارت 40 ڈگری تک محسوس کیا جاسکتا ہے جب کہ گرج چمک کے ساتھ طوفان کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔

کینیڈین ماہرین موسمیات کا کہنا ہےکہ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کیا جاسکتا ہے۔

ہانگ کانگ میں پولیس تشدد کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے

یہ بھی پڑھیں

جاپان نے عوام کو کرونا ویکسین مفت دینے کا اعلان کر دیا ہے

جاپان نے عوام کو کرونا ویکسین مفت دینے کا اعلان کر دیا ہے

ٹوکیو:جاپان نے امریکی کمپنی موڈرنا، آسٹرازینیکا اور فائزر سے ویکسینز کا معاہدہ کیا ہے۔ واضح …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے