پاکستان کو F-16 کی فروخت پر ہندوستان کا احتجاج

ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ہم پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کیے جانے کے سلسلے میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیے جانے سے مایوس ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا ہندوستان، امریکا کے اس خیال سے اتفاق نہیں رکھتا کہ ان طیاروں کی فروخت سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی، اور اس حوالے سے گزشتہ کئی سالوں کا ریکارڈ خود اپنی کہانی بیان کرتا ہے

بعد ازاں ہندوستانی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کو طلب کرکے ان سے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا

واضح رہے کہ اوباما انتظامیہ نے پاکستان کو 8 ایف سولہ طیاروں کی فروخت کی منظوری دیتے ہوئے امریکی کانگریس کو اس حوالے سے بتایا کہ منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور امریکا کی خارجہ پالیسی کے مفاد میں ہے۔

ایک ہفتے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ہ پاکستان کی فضائی کارروائیوں کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے، اس وقت اس اعلان کو خفیہ رکھے جانے والی ایف 16 طیاروں کی ڈیل کے حوالے سے دیکھا جارہا تھا۔

یہ ریمارکس اوباما انتظامیہ کو پاکستان کو 8 ایف-16 لڑاکا طیاروں کی فروخت سے روکنے کے لیے امریکی میڈیا میں کچھ امریکی قانون سازوں کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کے حوالے سے سامنے آئے۔

خیال رہے کہ پاکستان کو طیاروں کی فروخت کی منظوری کے حوالے سے امریکی کانگریس کے چند اراکین کی مخالفت کی وجہ سے تاخیر ہوئی اور ان کے خیال میں اس سے امریکا کو نقصان ہوگا، تاہم اوباما انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ امریکی مفاد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے