منامہ کانفرنس کی ناکامی پر امریکا کی جانب سے اعتراف

منامہ کانفرنس کی ناکامی پر امریکا کی جانب سے اعتراف

مغربی ایشیا میں نام نہاد قیام امن کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی نے اعتراف کیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے سیاسی حل کےحصول کے بغیر منامہ میں پیش کئے گئے اقتصادی منصوبے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

فلسطینی اخبار الحدث نے خبردی ہے کہ مغربی ایشیا میں نام نہاد قیام امن کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیسن گرینبلاٹ نے کہا کہ منامہ کانفرنس کی شکست کے ذمہ دار فلسطینی ہیں جنھوں نے منامہ کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے ٹرمپ انتظامیہ  پر اسرائیل کی جانبداری کی حمایت کا الزام جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کوشنر نے منامہ کانفرنس کا اہتمام کرایا تھا امریکی انتظامیہ کی پیشہ ور ٹیم کے ساتھ پچاس ارب ڈالر مالیت کے اقتصادی پیکج کا پروگرام تیار کیا ہے لیکن جب تک مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے کوئی سیاسی منصوبہ نہیں ہوگا اس وقت تک کوشنرکا منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ امریکا کے شرمناک منصوبے سینچری ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کے پہلے قدم کے طور پر گذشتہ پچیس اور چھبیس جون کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں اقتصادی کانفرنس ہوئی تھی جس کا فلسطینیوں اور دنیا کے بیشتر ملکوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔ سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ریاستوں کے تعاون سے امریکا کے تیار کردہ سینچری ڈیل منصوبے میں فلسطینیوں کو ان کے سبھی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے اور بیت المقدس کو اسرائیل۔

امریکی ایوان نمائندگان نے سعودیہ کو اسلحہ کی فروخت روکنے کیلئے قرارداد منظور کرلی

یہ بھی پڑھیں

فرانس میں پنشن قوانین کے خلاف ملک بھر میں شٹر ڈاؤن رہا

فرانس میں پنشن قوانین کے خلاف ملک بھر میں شٹر ڈاؤن رہا

پیرس: فرانس میں پنشن قوانین کے خلاف ملک بھر میں شٹر ڈاؤن رہا، پندرہ لاکھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے