سیاست میں آنے کی بڑی وجہ ہماری قوم کی محرومی ہے

سیاست میں آنے کی بڑی وجہ ہماری قوم کی محرومی ہے

اورکزئی: احمد کا اپنا خاندان تو سیاست سے کوسوں دور رہا ہے لیکن احمد اپنے علاقے کی سیاست اور اس کے پس منظر سے بخوبی آشنا ہیں وہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے لوگوں میں قبائلی اضلاع کے حوالے سے غیر دلچسپی کو قابلِ افسوس قرار دیتے ہیں

 

اپنے علاقے اور بالخصوص قبائلی اضلاع کے حالات کا بھی احوال دیا اور کہا کہ ’انتخابی مہم کے نام پر کھیل کھیلا جارہا ہے۔‘
وفاق المدارس سے عربی، اسلامیات اور اردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد احمد نے 2014 میں ضلعی انتخابات میں حصہ لیا اور اب وہ پشتون تحفظ موومنٹ سے منسلک ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سیاست میں آنے کی بڑی وجہ ہماری قوم کی محرومی ہے۔ آج ہم ایسے مسائل سے دوچار ہیں جن کے بارے میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔
قبائلی علاقہ جات میں انتخابات کے اعلان کے بعد سے زیادہ تر نعرے تبدیلی لانے کے حوالے سے ہیں۔ لیکن اس بارے میں زمینی حقائق کیا ہیں، احمد عباس اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’فاٹا کے حالات میں تبدیلی لانے کی باتیں دراصل چند نعرے ہیں جو سوشل میڈیا کی حد تک محدود ہیں۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ فاٹا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
کل اور آج کے انتخابات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ فاٹا میں پہلے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے انتخابات ہوتے تھے۔ لیکن اب فاٹا کے اضلاع خیبر پختونخواہ میں ضم کیے گیے ہیں اور ایجنسیوں کے ضلع بنائے گیے ہیں۔ تو یہ قبائلی علاقوں کا پہلا صوبائی الیکشن ہے جس سے بہت امیدیں باندھی جا رہی ہیں۔
کچھ عرصے پہلے تک وزیرستان میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی اور پانچ سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں امیدواروں کو مہم چلانے میں خاصی مشکلات پیش آئیں۔
کرفیو تو سات روز میں ختم ہوگیا تاہم اس کے بعد وزیرستان میں دفعہ 144 ایک مہینے تک نافذ رہی۔
احمد نے اس بارے میں کہا کہ فاٹا کے انتخابات دوسرے علاقوں کے مقابلے میں خاصے مخلتف ہیں۔
’سب سے پہلے تو ہمارے فاٹا کے نمائندگان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ابھی جنوبی و شمالی وزیرستان میں اسمبلی کے دو منتخب نمائندوں علی وزیر اور محسن داوڑ کو جیل میں ڈالا گیا ہے۔ جو اس انتخابات کا حصہ ہیں ان کے ساتھ بھی یہی کیا جا رہا ہے۔
تو ہمیں پیغام تو یہی دیا جارہا ہے کہ منتخب نمائندوں کی کوئی حیثیت، کوئی قدر نہیں ہے۔ یہ انتخابات برائے نام ہیں صرف یہ دکھانے کے لیے کہ جمہوریت چل رہی ہے۔ کیسے چل رہی ہے یہ نہیں پوچھ سکتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دوسرے علاقوں میں تو ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر ووٹ مانگا جاتا ہے کچھ ڈیلیور کرکے ووٹ مانگا جاتا ہے لیکن ہمارا تو بنیادی گھر ہی مسمار ہے۔
احمد نے بتایا کہ ’فاٹا میں کچّے روڈ کو سڑک کہتے ہیں۔ مسمار شدہ علاقے کو گھر کہتے ہیں۔ یہاں بجلی اور ٹیلیفون نیٹ ورک کا ناقص نظام ہے۔ تو اس وقت سب سے مشکل کام اپنی بات دوسروں تک پہنچانا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس وقت قبائلی اضلاع کو آباد کرنے کی ضرورت ہے۔’ہمارے علاقے سے بہت لوگ نقل مکانی کر کے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں گیے ہیں۔ ان کے گھر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
اللہ کا کرم ہے ہمارے علاقے سے کوئی آئی ڈی پی نہیں ہے۔ اور امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہے۔ جہاں تک مشکلات کی بات ہے تو میرے ساتھ اس وقت سکیورٹی گارڈ ہوتے ہیں جو مجھے ڈی پی او کی جانب سے فراہم کیے گیے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس وقت قبائلی اضلاع کے تین بڑے مسائل پانی، بجلی اور گیس ہے۔ ’اس کے علاوہ جو مسائل چند عناصر کی طرف سے بتائے جارہے ہیں وہ افہام و تفہیم سے بھی حل ہوسکتے ہیں نا کہ الزام تراشی اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچا کر۔۔‘
سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر آزاد امیدوار کے طور پر کیوں انتخابات لڑ رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو آزما کر دیکھ لیا ہے۔ اب قبائلی علاقوں میں لوگوں کی نمائندگی قبائلی سرداروں کے بجائے نوجوان کریں گے۔‘
اطلاعات کے مطابق اس وقت انھیں پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی سے بلاول کو جماعت میں شمولیت کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے ہنس کے کہا کہ ’یہ تو دیکھا جائے گا کہ تبدیلی لانے کی امید مجھے کہاں لے جاتی ہے۔
باجوڑ ایجنسی کے نظام الدین سالارزئی مسلم لیگ نواز کی یوتھ ونگ کا حصہ ہیں اور جماعت کی طرف سے انتخابات میں پی کے 102 سے حصہ لے رہے ہیں۔
اس سے پہلے نظام نے 2012 اور 2013 میں بطور صحافی بھی کام کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جب کوئی مجھ سے قبائلی اضلاع کے بارے میں پوچھتا ہے تو میں بتاتا ہوں کہ جتنا خوبصورت مالاکنڈ اور دیر ہے اتنا ہی خوبصورت باجوڑ بھی ہے۔ تاریخی طور پر ہم سب ایک ہی لوگ ہیں حالانکہ انگریزوں کے دور میں ہم تقسیم ہوگئے تھے۔ ہم کوئی الگ مخلوق نہیں ہیں۔
فاٹا میں زیادہ تر آزاد امیدوار ہی جیتتے ہیں جو پھر دوسری جماعتوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔
دوسری جانب احمد عباس نے کہا کہ ’ہم اپنی ہی زمین پر مسافر بنے بیٹھے ہیں۔ ہم اپنی زمین پر اپنی مرضی کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ تو ان حالات میں الیکشن کیا ہوں گے اور کیا کہلائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

ڈیرہ اسماعیل خان میں دو ماہ کے دوران چار اہم سرکاری شخصیات کونشانہ بنایا گیا

ڈیرہ اسماعیل خان میں دو ماہ کے دوران چار اہم سرکاری شخصیات کونشانہ بنایا گیا

پشاور: پبلک پراسیکیوٹر اور تحصیل بار کے ممبر محمد سعید ایڈوکیٹ کو نامعلوم دہشت گردوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے