مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

اسلام آباد: مقدمے میں مریم نواز، شہبازشریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف ، عظمیٰ بخاری، پرویز رشید، احسن اقبال و دیگر کو نامزد کیا گیا۔ ایف آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ مریم نواز نے ویڈیو ہیر پھیر کر کے دکھائی اور اسے ٹیمپر کر کے الیکٹرانک فارجری بھی کی

 

ایف آئی آراندراج کے بعد بعدویڈیوبلیک میلنگ اسکینڈل میں میاں رضا نامی نیا کردار بھی سامنے آیا جس نے ویڈیو میاں طارق سے خرید کر اسے آگے فروخت کیا، جج ارشدملک کی ہی شکایت پر ایف آئی اے نے دبئی فرار ہونے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے میاں طارق کو گرفتارکیا۔
جب ملتان میں ڈسٹرکٹ جج تھا تو میاں طارق نےغیراخلاقی ویڈیوبنائی، 5ماہ پہلے میاں طارق نےویڈیو مسلم لیگ ن کے رہنمامیاں رضا کو فروخت کی، ویڈیو کے ذریعے ناصرجنجوعہ،ناصربٹ،خرم یوسف،مہرگیلانی نےبلیک میل کیا اور کہا کہ نوازشریف کی مدد کرو۔
جج ارشد ملک کی درخواست پر کاٹی جانے والی ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ بلیک میل کرکےکہاجاتاتھا کہ تاثر پیش کروں نوازشریف کے خلاف فیصلہ دباؤمیں دیا، مریم نواز،لیگی رہنماؤں کوپریس کانفرنس کرتےدیکھ کرشدیدجھٹکالگا کیونکہ اس کا مقصد خاندان،عدلیہ کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈاکرنا مقصود تھا۔

یہ بھی پڑھیں

عمران خان کا دعوی تھا کہ اسٹیل ملز کو وہ چلا کر دکھائیں گے

عمران خان کا دعوی تھا کہ اسٹیل ملز کو وہ چلا کر دکھائیں گے

اسلام آباد: چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس ہوا تو اپوزیشن کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے