گلزار حسین نے ہمت ہاری اور نہ حوصلہ

گلزار حسین نے ہمت ہاری اور نہ حوصلہ

پارا چنار: 28 سالہ باہمت اور بہادر گلزار حسین 1999 میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دونوں ٹانگوں اور ایک ہاتھ سے محروم ہوگئے تھے

اس کے باوجود بھی گلزار حسین نے ہمت ہاری اور نہ حوصلہ، بلکہ ماسٹرز کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنے گاؤں میں بچوں کو تعلیم دینے لگے۔
انہوں نے بتایا کہ 1999 میں پہلی جماعت میں زیر تعلیم تھا لیکن حادثے کا شکار ہونے کے بعد میں نے ہمت نہیں ہاری، معذوری کے باجود بھی میٹرک ایف اے ،بی اے اور پی ٹی سی کورس اور ایم اے اسلامیات کیا۔
بتایا کہ 2014 سے گورنمنٹ پرائمری ماسک اسکول میں پڑھا رہا ہوں لیکن فاٹا انضمام کے بعد انہیں پڑھائی کے بدلے مقامی انتظامیہ کی جانب سے ملنے والے 6 ہزار روپے بھی 14 ماہ سے بند ہوگئے ہیں۔
گلزار حسین کے ایک طالب علم عدنان حیدر نے کہا کہ استاد گلزار بہت زیادہ محنتی ہیں، ہمیشہ وقت پر اسکول آتے ہیں اور ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں۔
طالب علم کا کہنا تھا کہ حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ گلزار حسین کو مستقل کیا جائے اور ان کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے کیے جائیں تاکہ گلزار حسین کی طرح باقی جو معذور لوگ ہیں وہ ہمت نہ ہاریں۔

یہ بھی پڑھیں

ڈیرہ اسماعیل خان میں دو ماہ کے دوران چار اہم سرکاری شخصیات کونشانہ بنایا گیا

ڈیرہ اسماعیل خان میں دو ماہ کے دوران چار اہم سرکاری شخصیات کونشانہ بنایا گیا

پشاور: پبلک پراسیکیوٹر اور تحصیل بار کے ممبر محمد سعید ایڈوکیٹ کو نامعلوم دہشت گردوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے