سیلفی ایک نیا نشہ بن چکی ہے

لوگ اپنی انفرادیت ظاہر کرنے اور دوسروں کو متاثر کرنے کےلیے اپنی جان پر کھیل رہے ہیں۔

نیویارک کی ماہر نفسیات گیلڈا کارل کا کہنا ہے کہ سیلفی ایک نیا نشہ بن چکی ہے۔ یہ ایک ڈوپامین نشہ ہے اور بہت ہی آسان ہے۔ اس پر آپ کا کچھ خرچ نہیں ہوتا سوائے جان کے۔ لوگ سیلفی کے اتنے دیوانے ہوتے جارہے ہیں کہ انہیں اپنی زندگی بھی سیلفی سے کم اہم نظر آنے لگی ہے۔ یہ ایک طرح کا نشہ بنتی جارہی ہے اور بچے، بوڑھے، جوان، مرد و عورت سب اس کی لت میں پڑچکے ہیں۔ لوگ اپنی انفرادیت ظاہر کرنے اور دوسروں کو متاثر کرنے کےلیے اپنی جان پر کھیل رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2011 سے 2017 تک کوئی 259 لوگ سیلفی بنانے کی خاطر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سب سے زیادہ واقعات انڈیا میں ہورہے ہیں، اس کے بعد روس، امریکا اور پھر پاکستان کا نمبر آتا ہے۔

کوئی کھائی میں گر کر مر رہا ہے اور کوئی بہت بڑی عمارت کے جنگلے سے گر کا جان دے رہا ہے۔آئے دن کوئی نہ کوئی خبر ملتی ہے کہ آج ایک شخص ٹرین سے ٹکرا کر مرگیا، وہ سیلفی بنا رہا تھا۔

ماہر نفسیات گیلڈا کارل کا کہنا ہے کہ سیلفی ایک نیا نشہ بن چکی ہے۔ یہ ایک ڈوپامین نشہ ہے اور بہت ہی آسان ہے۔ اس پر آپ کا کچھ خرچ نہیں ہوتا سوائے جان کے۔ اب تو وکی پیڈیا پر بھی اس سیلفی کا ایک صفحہ بن چکا ہے کہ لوگ سیلفی سائیڈ کیوں کرتے ہیں۔ گیلڈا کارل کا کہنا ہے کہ لوگ ایسی شدت پسندانہ حرکتیں تب کرتے ہیں، جب وہ خود کو عارضی طور پر بہت بڑا اور طاقتور محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان لوگوں میں یہ رحجان بہت ہی زیادہ ہے جو سوشل میڈیا پر لائیکس لینے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور اپنے فالوورز بڑھانے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔ جب تک وہ اپنی سیلفی کی لائیکس کی تعداد نہ معلوم کرلیں، انہیں نیند ہی نہیں آتی۔ اور صبح اٹھتے ہی اس تعداد کو دوبارہ چیک کرتے ہیں کہ رات کے وقت کتنے اور لوگوں نے پسند کی ہے اور نئے فالوورز کتنے ملے ہیں۔ اس کا تذکرہ وہ نہ صرف سوشل میڈیا پر کرتے ہیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اسے بڑا معرکہ سمجھتے ہیں اور اس پر اتراتے بھی ہیں۔ یوں ان کی دیکھا دیکھی یہ مرض متعدی بن رہا ہے۔

ایسے لوگ اپنے اندر نہیں جھانکتے، کیونکہ وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایسے ہی کھوکھلا ہوتا جارہا ہے، جس طرح یہ سیلفی بنانے والے ہیں۔ ہماری تہذیب کو کیا ہوتا جارہا ہے کہ ہم اپنے اندر کے انسان کو مطمئن کرنے کےلیے باہر سے داد وصول کرنے کی سعی میں جت گئے ہیں۔ ہم اس پر خطرراستے اور رویے کو ہی شہرت اور دولت کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے خطرناک مقامات پر واضح الفاظ میں لکھوائے کہ یہ جگہ سیلفی بنانے کےلیے نہیں ہے۔ آبی مقامات، پہاڑ کی چوٹیوں پر اور بہت اونچی عمارات پر تو یہ بالکل منع ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

وزیر خارجہ پاکستان اور اسرائیل سے یارانہ

وزیر خارجہ کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا بیان امریکی و برطانوی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے