لندن کے گریٹ آرمنڈ اسپتال میں کامیاب آپریشن

لندن کے گریٹ آرمنڈ اسپتال میں کامیاب آپریشن

لندن: اس آپریشن کی سیریز میں مجموعی طور پر 55 گھنٹے کا دورانیہ صرف ہوا

2 سالہ صفا اور مروہ کے جڑے ہوئے سروں کو علیحدہ کرنے کے لیے 4 ماہ کے عرصے میں تین بڑے آپریشنز کیے گئے

اس تمام عمل میں 100 اسٹاف ممبر شامل تھے

سرجنز نے دونوں بہنوں کے جڑے ہوئے دماغ اور کھوپڑی کو علیحدہ کیا جس کے بعد انتہائی مہارت سے دونوں کے سروں کی سرجری کی۔
صفا اور مروہ کا حتمی آپریشن فروری میں کیا گیا تھا جس کے بعد وہ لندن میں تیزی سے صحت یاب ہورہی ہیں اور آئندہ سال پاکستان واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس آپریشن کے اخراجات پاکستانی بزنس مین مرتضیٰ لاکھانی نے برداشت کیے۔
صفا اور مروہ کے والد انتقال کرچکے ہیں، دونوں بچیوں کے کامیاب آپریشن پر ان کی والدہ زینب بی بی نے اسپتال اور اسٹاف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے کرم سے وہ آج دونوں بچیوں کو علیحدہ علیحدہ پکڑنے کے قابل ہیں۔
دونوں بچیوں کو صحت مند ہونے پر ان کی والدہ زینب بی بی اور دادا محمد سادات کے ساتھ یکم جولائی کو اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔
گریٹ آرمنڈ اسپتال کے نیورو سرجن نورالاویس جیلانی اور پلاسٹک سرجن پروفیسر ڈیوڈ دوناوے 2006 اور 2011 میں بھی اس طرح کا آپریشن انجام دے چکے ہیں لیکن ان کے نزدیک صفا اور مروہ کا کیس انتہائی نازک تھا جس کے باعث انہوں نے آپریشن کے لیے بہت تیاری کی اور تھری ڈی ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔
سرجنز نے بتایا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں کیے جانے والے 15 گھنٹے طویل پہلے آپریشن میں انہوں نے دماغ اور شریانوں کو علیحدہ کیا، پھر ایک ماہ بعد دوسرے آپریشن میں رگوں کو علیحدہ کیا گیا۔
ڈاکٹرز کے مطابق آپریشن میں پیچیدگیوں کے باعث صفا تقریباً 12 گھنٹے اسٹروک کی حالت میں رہی۔

یہ بھی پڑھیں

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

واشنگٹن: ٹرمپ نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر سیاہ فاموں کی جانب سے احتجاج اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے