وادی نیلم سیلابی ریلے کے نیتجے میں کم از کم 22 افراد لاپتہ جبکہ پانچ زخمی

وادی نیلم سیلابی ریلے کے نیتجے میں کم از کم 22 افراد لاپتہ جبکہ پانچ زخمی

نیلم: یہ علاقہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے تقریباً 60 کلومیٹر جبکہ شاہراہ نیلم سے کئی گھنٹے کی پیدل مسافت پر واقع ہے

 

کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بادل پھٹنے کے بعد لیسوا گاؤں سے گزرنے والے پہاڑی نالے میں طغیانی آئی۔
ایس ڈی ایم اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید شاہد اکبر کے مطابق لیسوا میں آنے والے اس ’فلیش فلڈ‘ میں اب تک 22 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 11 کا تعلق تبلیغی جماعت سے بتایا جاتا ہے جو مقامی مسجد میں مقیم تھی۔
لاپتہ ہونے والے دیگر افراد میں سے نو مقامی ہیں جبکہ دو فرنیٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ملازم بتائے جاتے ہیں۔
سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلابی ریلے سے لگ بھگ 135 مکانات کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا ہے جن میں تین مساجد بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق فلیش فلڈ سے چھ پن چکیاں بھی مکمل تباہ ہوئی ہیں جبکہ چھ گاڑیاں اور دس موٹر سائیکلیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں جن میں سے دو گاڑیاں علاقے میں آنے والے سیاحوں کی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے سے جورا بازار مکمل تباہ جبکہ بنیادی صحت کے دو مراکز بھی متاثر ہوئے ہیں۔
لیسوا گاوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان شیخ عمر نے بتایا کہ جس علاقے میں سیلاب آیا وہاں چھ سے زیادہ گاؤں ہیں جن کی آبادی لگ بھگ 12 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور ان میں حکام کے مطابق ایس ڈی ایم اے،پاکستانی فوج، مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اور محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے علاوہ مقامی افراد کی بڑی تعداد بھی شریک ہے جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔
سید شاہد اکبر کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے کام تیزی سے جاری ہے تاہم مواصلاتی نظام متاثر ہونے کے باعث مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
’کلاؤڈ برسٹ‘ یا بادل پھٹنے کا مطلب کسی مخصوص علاقے میں اچانک بہت کم وقت میں گرج چمک کے ساتھ بہت زیادہ اور موسلادھار بارش کا ہونا ہے جس کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو جائے۔
بادل پھٹنے کا واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب زمین یا فضا میں موجود بادلوں کے نیچے سے گرم ہوا کی لہر اوپر کی جانب اٹھتی ہے اور بادل میں موجود بارش کے قطروں کو ساتھ لے جاتی ہے۔
اس وجہ سے عام طریقے سے بارش نہیں ہوتی اور نتیجے میں بادلوں میں بخارات کے پانی بننے کا عمل بہت تیز ہو جاتا ہے کیونکہ بارش کے نئے قطرے بنتے ہیں اور پرانے قطرے اپ ڈرافٹ کی وجہ سے واپس بادلوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔
اس کا نتیجہ طوفانی بارش کی شکل میں نکلتا ہے کیونکہ بادل اتنے پانی کا بوجھ سہار نہیں سکتا۔
کلاؤڈ برسٹ کے واقعات ماضی میں پاکستان اور انڈیا اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں پیش آتے رہے ہیں جہاں کم اونچائی والے مون سون بادل اونچے پہاڑوں سے ٹکرا کر رک جاتے ہیں اور برس پڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

صدر آزاد کشمیر کا بھارت کے خلاف سلامتی کونسل میں جانے کا اعلان

صدر آزاد کشمیر کا بھارت کے خلاف سلامتی کونسل میں جانے کا اعلان

مظفرآباد: صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کے خلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے