وفاقی و صوبائی حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو نوٹس جاری

وفاقی و صوبائی حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو نوٹس جاری

لاہور: عدالت عالیہ میں جسٹس شہرام سرور اور جسٹس وحید خان پر مشتمل بینچ نے حافظ سعید اور دیگر 7 افراد کی درخواست پر سماعت کی، جس میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور ریجنل ہیڈکوارٹر سی ٹی ڈی کو فریق بنایا گیا

درخواست گزاروں کی طرف سے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور دلائل دیے، تاہم عدالت میں وفاقی حکومت کی طرف سے پیش وکیل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ درخواست ناقابل سماعت ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے موکل پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔
عدالت نے حافظ سعید کی درخواست پر وفاقی و صوبائی حکومت اور سی ٹی ڈی کو نوٹس جاری کردیا اور مذکورہ کیس کی سماعت 30 جولائی تک ملتوی کردی۔
عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ یکم جولائی کو حکومت پاکستان نے حافظ سعید پر کالعدم لشکر طیبہ کا سربراہ ہونے کا بے بنیاد الزام عائد کرکے مقدمہ درج کیا۔
اس درخواست میں کہا گیا کہ حافظ سعید کا القاعدہ یا پھر اس جیسی کسی بھی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ لشکر طیبہ کے ساتھ حافظ سعید کا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ ممبئی حملوں سے متعلق بھارتی لابی کا بیان بھی حقائق کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن پر تشدد کرنے والی خاتون سامنے آگئی

لاہور :آمنہ عثمان کا کہنا ہے کہ وہ لڑکی میری 13سالہ شادی کو خراب کرنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے