ان کا منصوبہ امریکہ کو ایک مرتبہ پھر سفید فاموں کا ملک بنانے کا ہے

ان کا منصوبہ امریکہ کو ایک مرتبہ پھر سفید فاموں کا ملک بنانے کا ہے

امریکہ: اپنی ٹوئٹس میں ان خواتین کو ’واپس جانے‘ کا مشورہ دینے سے پہلے کہا تھا کہ یہ خواتین’ دراصل ان ممالک سے آئیں ہیں جن کی حکومتیں مکمل طور پر تباہی کا شکار ہیں

سپیکر نینسی پیلوسی (ان خواتین کے لیے ) ’جلد از جلد مفت سفری انتظامات کر کے بہت خوش ہوں گی۔‘
صدر ٹرمپ کی یہ ٹویٹ گذشتہ ہفتے نینسی پلوسی کی ڈیموکریٹ پارٹی کی غیر سفید فام نسلوں سے تعلق رکھنے والی چار خواتین ارکانِ پارلیمان سے جھڑپ کے بعد سامنے آئی ہے۔
کانگریس کی رکن ان چار ارکان میں سے تین الیگزینڈرا اوکاسیو کورتیز، راشدہ طلیب اور آیانا پریسلی امریکہ میں ہی پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں جبکہ چوتھی خاتون الحان عمر بچپن میں ہی امریکہ آ گئی تھیں۔
الیگزینڈرا کورتیز نیویارک کے علاقے برونکس میں پیدا ہوئیں جو کوئنز ہسپتال سے تقریباً 12 میل دور ہے جہاں خود صدر ٹرمپ کا جنم ہوا تھا۔
صدر ٹرمپ نے تین سلسلہ وار ٹویٹس میں الزام لگایا کہ یہ خواتین اراکان کانگریس ’بیہودہ‘ انداز میں انھیں اور امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔
ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی ’ترقی پسند‘ خواتین ارکان کانگریس کو دیکھنا بہت دلچسپ ہے جو دراصل خود ان ممالک سے آئی ہیں جہاں کی حکومتیں مکمل طور ہر ناکام اور تباہ حال ہیں، اور (اگر ان کے ہہاں حکومت ہے بھی) تو دنیا بھر سے سب سے زیادہ کرپٹ اور نااہل ہیں اور اب وہ یہاں باآوازِ بلند چالاکی کے ساتھ امریکی عوام کو جو کہ کرہ ارض پر سب سے عظیم اور طاقت ور قوم سے تعلق رکھتے ہیں، بتا رہی ہے کہ حکومت کیسے چلائی جاتی ہے۔
وپاں واپس کیوں نہیں چلی جاتیں جہاں سے آئی ہیں اور اپنے مکمل طور پر ناکام اور جرائم سے متاثرہ علاقے ٹھیک کرنے میں ان کی مدد کریں اور پھر واپس آ کر ہمیں بتایئں کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے۔
یہ علاقے آپ کی مدد کے طلب گار ہیں اور کیا آپ وہاں جلدی نہیں جا سکتیں؟ مجھے یقین ہے کہ نینسی پلوسی آپ کے جلد مفت سفری انتظامات کر کے پر بہت خوش ہو گی۔‘
اگرچہ صدر نے اپنی ان ٹویٹس میں ان خواتین ارکانِ کانگریس کا براہِ راست نام نہیں لیا تاہم نینسی پلوسی کے حوالے سے عام خیال یہی ہے کہ وہ الیگزینڈرا کورتیز، راشدہ طلیب، پریسلی اور الحان عمر کی بات کر رہے تھے۔
سپیکر پارلیمان نینسی پلوسی نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کا حوالے دیتے ہوئے انھیں ’غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی ‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا تنوع ہی ہماری طاقت ہے اور ہمارا اتحاد ہی ہماری قوت ہے۔‘
امریکی ریاست مشیگن کے 13ویں ڈسٹرکٹ سے منتخب خاتون رکن کانگرس راشدہ طلیب نے ٹویٹ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’ میں لاقانونیت کا شکار اور مکمل طور پر ناکام صدر سے جواب چاہتی ہوں؟ یہ بحران ہے، ان کا خطرناک نظریہ بحران ہے، ان کے مواخذے کی ضرورت ہے۔‘
وائٹ ہاؤس پر رپورٹنگ کرنے والے رپورٹر برائن جے کریم نے امریکی صدر کو ٹویٹ کرتے ہویے کہا ’ بہت زیادہ نسل پرست، صبح بخیر‘ جبکہ امریکی سیاسی مبصر جوش روگن کا کہنا تھا ’ یہ ٹرمپ کے لیے ایک نیا، افسوسناک، نسل پرستانہ اور انتہائی گرا ہوا مقام ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد چین سے زیادہ ہوگئی

نئی دہلی: بھارتی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے