متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا کیا ہے

متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا کیا ہے

متحدہ عرب امارات:  طویل مدتی ویزا سکیم کے تحت گولڈن ویزا کارڈ کا جب سے اعلان کیا ہے اس کے بعد سے اسے حاصل کرنا کسی اعزاز سے کم نہیں سمجھا جا رہا ہے

شارجہ میں انڈین بزنس مین لالو سیموئل ہوں یا دبئی میں مقیم پی اے ابراہیم یا پھر بنگلہ دیش کے محمد مہتاب الرحمان، ان سب کو گولڈن ویزے ملنا اخباروں کی سرخیاں بنیں۔
لالو سیموئل کنگسٹن ہولڈنگز نامی کمپنی کے مالک ہیں۔ اس کمپنی کا شمار مشرق وسطی کی بڑی مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں ہوتاہے۔ جبکہ پی اے ابراہیم زیورات بنانے والی کمپنی مالابار گروپ کے شریک چیئرمین ہیں۔
محمد مہتاب الرحمان الحرمین گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین اور مینجنگ ڈائریکٹر ہیں اور وہ پہلے بنگلہ دیشی ہیں جنھیں ‘گولڈن کارڈ’ دیا گيا ہے۔
اخبار خلیج ٹائمز کے مطابق اس موقعے پر انھوں نے کہا: ‘گولڈن ویزا میرے اور میرے ملک بنگلہ دیش کے لیے ایک اعزاز ہے۔ اس سے متحدہ عرب امارات کی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے اور اس کی معیشت کو پھیلانے کے سلسلے میں ہماری حوصلہ افزائی ہوگی۔ ہم متحدہ عرب امارات کی قیادت اور وہاں کے عوام کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمیں بڑے معاشی مواقع فراہم کیے اور ہماری عزت افزائی کی۔
رواں سال مئی کے آخری عشرے میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد نے گولڈن کارڈ کی سکیم کا اعلان کیا تھا۔
گولڈن ویزا ایک دس سالہ رہائشی کارڈ ہے جس کا اعلان 21 مئی کو کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ‘گولڈن کارڈ’ کا اعلان کرتے ہوئے لکھا: ‘ہم نے سرمایہ کاروں، انتہائی قابل ڈاکٹروں، انجینئروں، سائنسدانوں اور فنکاروں کو مستقل رہائش دینے کے لئے گولڈن کارڈ اسکیم لانچ کیا ہے۔’
اس ٹویٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ ‘اس کے تحت مجموعی طور پر 100 ارب درہم تک کی مالیت کی سرمایہ کاری کرنے والے 6800 سرمایہ کاروں کو پہلے دور میں ‘گولڈن کارڈ’ جاری کیا جائے گا’ جن کا تعلق 70 ممالک سے ہوگا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ گولڈن کارڈ کا مقصد متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کرنے والوں، بین الاقوامی اہمیت کی بڑی کمپنیون کے مالکان، اہم شعبے کے پیشہ وروں، سائنس کے میدان میں کام کرنے والوں محققوں اور باصلاحیت طلبہ کو متحدہ عرب امارات کی ترقی میں شامل اور متوجہ کرنا ہے۔
گولڈن کارڈ ویزا ہولڈرز کو کئی سہولتیں حاصل ہوں گی جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ وہ بغیر کسی دوسرے شخص یا کمپنی کی مدد کے یو اے ای میں اپنے شوہر یا بیوی اور بچوں کے ساتھ قیام کر سکیں گے۔
اس سے قبل کسی بھی غیر ملکی کو وہاں ٹھہرنے کے لیے کسی سپانسر کی ضرورت ہوا کرتی تھی اور گولڈن ویزا کے علاوہ تمام لوگوں کے لیے اب بھی وہی اصول ہے۔
اس کے علاوہ گولڈن کارڈ ہولڈر تین ملازمین کو سپانسر کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ انھیں اپنی کمپنی میں ایک سینیئر ملازم کے لیے رہائشی ویزا بھی حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
درخواست کے پہلے دور میں 70 سے زیادہ ممالک کے 6،800 افراد کو فائدہ ہوگا۔
گذشتہ ماہ کے اختتام پر متحدہ عرب امارات کے حکام نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس وقت تک تقریباً 7000 درخواست کنندہ گان میں سے کم از کم 400 افراد کو گولڈن ویزا جاری کر دیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے ‘دی نیشنل’ اخبار کے مطابق ریزیڈنسی اور فارن افیئر‎ز کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کے ڈي جی میجر جنرل محمد الماری نے کہا کہ اس ویزا کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے اور ہر دس سال بعد کارڈ کی مزید دس سال کے لیے تجدید کی جائےگی۔
25 جون کو جنرل الماری نے مزید بتایا کہ جن افراد کی تنخواہ ماہانہ 30 ہزار درہم یا اس سے زیادہ ہوگی وہ اس ویزے کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔
ایسے پیشہ وروں کے پاس بیچلر یا اس کے مساوی ڈگری ہوں اور ان کے پاس پانچ سال کام کے تجربے کے ساتھ ملازمت کے جائز کنٹریکٹ بھی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں

اشرف غنی نے عید کے موقع پر500 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کردیا

اشرف غنی نے عید کے موقع پر500 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کردیا

کابل: افغان حکومت کی جانب سے مرحلہ وار طالبان قیدی رہا کیے جارہے تھے لیکن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے