کسی بھی کامیابی کے بعد یہ نہیں سوچا کہ 'بس اب بہت ہوا

کسی بھی کامیابی کے بعد یہ نہیں سوچا کہ ‘بس اب بہت ہوا

بلوچستان: بادشاہ گر یعنی ‘کنگ میکر’ کو حقیقی بادشاہ سے زیادہ طاقتور تصور کیا جاتا ہے اور یہ رتبہ حاصل کرنے کا سفر نہایت مشکل اور صبرآزما ہوتا ہے

آسان تو بادشاہ بننا بھی نہیں ہے لیکن غلام علی پہلے تو خود کراٹے کے کھیل میں بادشاہ بنے اور پھر انھوں نے اپنے شاگردوں کو بادشاہ بنانے کی ٹھانی۔
اتار چڑھاؤ سے بھرپور 37 سالہ سفر کے دوران انھوں نے سائیکلیں بھی بنائیں، موٹر سائیکلوں کی بھی مرمت کی اور لوگوں کےکپڑے بھی سیے۔
کمسنی میں ہی والد کی وفات کے بعد انھیں پڑھائی چھوڑ کر مزدوری کرنی پڑی مگر وہ یہ عزم کر چکے تھے کہ انھوں نے زندگی میں کچھ بڑا کر کے دکھانا ہے اور اس کے لیے انھوں نے کراٹے کھیلنے کا راستہ چنا۔
غلام علی کا کہنا ہے کہ ‘اس زمانے میں کراٹے کے اساتذہ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا چنانچہ میں نے بچپن ہی سے سوچ لیا تھا کہ میں کراٹے ہی کھیلوں گا اور اس شعبے میں استاد بنوں گا۔’
اس کے بعد اگلا مرحلہ تھا اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کا، جس کے لیے وسائل کی ضرورت تھی اور غلام علی کے پاس ان کی کمی۔
لیکن راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے وہ مسلسل لگن کے ساتھ اپنی تمام تر توجہ اپنی ٹریننگ پر دیتے رہے۔
‘سنہ 1997 میں جب میں نے واپڈا کی طرف سے کھیلنا شروع کیا تو اس وقت میری تنخواہ صرف تین ہزار تھی جبکہ کلب کا کرایہ چھ ہزار روپے تھا۔’
سنہ 1997 سے سنہ 2011 تک انھوں نے پاکستانی قومی ٹیم کی بھی نمائندگی کی ہے۔
سنہ 2004 میں جب انھوں نے اپنا پہلا گولڈ میڈل جیتا تو اسی جیت کی رقم سے اپنے علاقے میں کراٹے کلب کا آغاز کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘میرے اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اب لڑکے اور لڑکیاں بغیر کسی خوف و خطر آزادانہ طور پر اس کلب میں آسکتے ہیں۔’
‘میرے لیے سب سے بڑی خوشی کی بات یہ ہوتی ہے کہ بلوچستان کی ویمن کراٹے کی ٹیم ہمیشہ ہمارے ہی کلب سے بنتی ہے کیونکہ باقی جگہوں میں لڑکیوں کی اتنی باقاعدہ تربیت نہیں ہوتی۔’
ان ہی لڑکیوں میں سب سے مشہور نرگس ہزارہ ہیں جنھوں نے پچھلے سال ایشین گیمز میں صرف 20 سال کی عمر میں ہی کانسی کا تمغہ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔ اسی طرح کلثوم ہزارہ نے بھی اپنے استاد کے نقش قدم پر چل کر ساؤتھ ایشین گیمز میں گولڈ میڈلز جیتنے کی ہیٹ ٹرک کی۔
آج بھی جب آپ ہزارہ ٹاؤن کے اس چھوٹے سے محلے میں واقع اس کراٹے کلب میں داخل ہوں تو لڑکے اور لڑکیوں کو ایک ساتھ کراٹے کی ٹریننگ کرتے ہوئے دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت کا احساس ہو گا۔ مگر جو لڑکیاں الگ سے ٹریننگ کرنا چاہتی ہیں ان کے لیے ایک الگ ٹائم بھی مخصوص ہے۔
غلام علی کہتے ہیں کہ پچھلے 13 برسوں میں جب سے کوئٹہ شدید بدامنی کی لپیٹ میں تھا تو ان کے لیے اپنے علاقے سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو گیا تھا، مگر اس کے باوجود وہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کو مختلف مقابلوں میں لے کر جاتے تھے تا کہ ان کو مقابلہ جیتنے کی وجہ سے ہمت ملے۔
اسی طرح کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کے سب سے یادگار لمحات میں سے ایک وہ تھا جب ان کا ایک شاگرد، جس کے والدین ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے، نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل جیت کر آیا۔
وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس وقت بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے جب کسی ٹورنامنٹ کے دوران لوگ اپنی بیٹیوں کو لا کر ان کے شاگردوں کی مثالیں دیتے ہیں۔
غلام علی اور ان کی طرح کے کئی لوگ کوئٹہ کے سخت حالات کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت آہستہ آہستہ تبدیلی لا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جانوروں کو لگائے جانے والے ممنوعہ انجکشن کوئٹہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

جانوروں کو لگائے جانے والے ممنوعہ انجکشن کوئٹہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

کوئٹہ: کسٹم حکام نے بتایا کہ دبئی سے آنے والے مسافر طیارے سے 15 ہزار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے